شیخ رشید سری نگر جائیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے مظفرآباد سری نگر بس سروس کے ذریعے تیس جون کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر جانے کے لیے مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں اپنے سفری کاغذات جمع کرا دیے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والدین 1947میں سری نگر سے پاکستان آئے تھے جس کے بعد وہ کبھی واپس سری نگر نہیں گئے۔ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ وہ بحیثیت ایک کشمیری کے سری نگر جائیں گے نہ کہ بحیثیت پاکستان کے وفاقی وزیر کے۔ انہوں نے کہا کہ سری نگر میں ان کے چچا اور پھوپھیاں رہتی ہیں اور ان کے کزنز بھی جن سے ملنے کا ان کو بہت اشتیاق ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق ان کے والدین سری نگر میں حبہ قدر کے زمین دار محلے میں رہتے تھے جہاں ان کا گھر اب بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کشمیر جا کر اپنے دادا دادی اور نانا نانی کی قبروں پر بھی جانا چاہتے ہیں۔ شیخ رشید پاکستان اور بھارت کے واحد سیاسی رہنما نہیں ہیں جن کے آباؤ اجداد بر صغیر کی تقسیم کے بعد اپنا گھر بار چھوڑ کر سرحد پار چلے آئے تھے۔ بھارت کے موجودہ وزیر اعظم من موہن سنگھ اور سابق وزیر اعظم آئی کے گجرال کے آبائی گھر پاکستان میں تھے مگر تقسیم کے بعد وہ بھارت چلے گئے۔ اسی طرح بھارت کے حزب اختلاف کے رہنما ایل کے اڈوانی جو گزشتہ ہفتے پاکستان آئے تھے نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی اور پھر بھارت چلے گئے تھے ۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے والدین بھی بھارت سے تقسیم کے بعد پاکستان آیے۔ بھارت کے دارالحکومت دلی میں آج بھی ان کا گھر موجود ہے گو کہ وہ ان کی ملکیت نہیں ہے جس کو نہر والی حویلی کہا جاتا ہے۔ اس سال اپریل میں شروع ہونے والی مظفرآباد سری نگر بس سروس کے ذریعے کئی ایسے کشمیری لائن آف کنٹرول کے پار اپنے گھر والوں سے پانچ دہائیوں کے بعد ملے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات نے دونوں ملکوں کے ہزاروں ایسے شہریوں کو اپنی جنم بھومی دیکھنے اور اپنے قریبی رشتہ داروں سے ملنے کی آس دلائی ہے جو یہ بات شائد آج سے دو سال پہلے تک سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ شائد شیخ رشید بھی نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||