BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 June, 2005, 08:09 GMT 13:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شیخ رشید سری نگر جائیں گے

شیخ رشید
شیخ رشید احمد کے والدین 1947 میں سری نگر سے پاکستان آئے تھے
وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے مظفرآباد سری نگر بس سروس کے ذریعے تیس جون کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر جانے کے لیے مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں اپنے سفری کاغذات جمع کرا دیے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والدین 1947میں سری نگر سے پاکستان آئے تھے جس کے بعد وہ کبھی واپس سری نگر نہیں گئے۔ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ وہ بحیثیت ایک کشمیری کے سری نگر جائیں گے نہ کہ بحیثیت پاکستان کے وفاقی وزیر کے۔ انہوں نے کہا کہ سری نگر میں ان کے چچا اور پھوپھیاں رہتی ہیں اور ان کے کزنز بھی جن سے ملنے کا ان کو بہت اشتیاق ہے۔

 شیخ رشید کا کہنا ہے کہ وہ بحیثیت ایک کشمیری سری نگر جائیں گے بحیثیت پاکستان کے وفاقی وزیر کے نہیں

وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق ان کے والدین سری نگر میں حبہ قدر کے زمین دار محلے میں رہتے تھے جہاں ان کا گھر اب بھی موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ کشمیر جا کر اپنے دادا دادی اور نانا نانی کی قبروں پر بھی جانا چاہتے ہیں۔

شیخ رشید پاکستان اور بھارت کے واحد سیاسی رہنما نہیں ہیں جن کے آباؤ اجداد بر صغیر کی تقسیم کے بعد اپنا گھر بار چھوڑ کر سرحد پار چلے آئے تھے۔

بھارت کے موجودہ وزیر اعظم من موہن سنگھ اور سابق وزیر اعظم آئی کے گجرال کے آبائی گھر پاکستان میں تھے مگر تقسیم کے بعد وہ بھارت چلے گئے۔ اسی طرح بھارت کے حزب اختلاف کے رہنما ایل کے اڈوانی جو گزشتہ ہفتے پاکستان آئے تھے نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی اور پھر بھارت چلے گئے تھے ۔

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے والدین بھی بھارت سے تقسیم کے بعد پاکستان آیے۔ بھارت کے دارالحکومت دلی میں آج بھی ان کا گھر موجود ہے گو کہ وہ ان کی ملکیت نہیں ہے جس کو نہر والی حویلی کہا جاتا ہے۔

اس سال اپریل میں شروع ہونے والی مظفرآباد سری نگر بس سروس کے ذریعے کئی ایسے کشمیری لائن آف کنٹرول کے پار اپنے گھر والوں سے پانچ دہائیوں کے بعد ملے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات نے دونوں ملکوں کے ہزاروں ایسے شہریوں کو اپنی جنم بھومی دیکھنے اور اپنے قریبی رشتہ داروں سے ملنے کی آس دلائی ہے جو یہ بات شائد آج سے دو سال پہلے تک سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ شائد شیخ رشید بھی نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد