مظفر آباد میں جہاد کی گونج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جماعت اسلامی نے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جس کو تحفظ کشمیر کانفرنس کا نام دیا گیا۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد کشمیر کی وحدت اور کشمیریوں کے حق خود ارادایت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مستقبل میں جموں کشمیر کو تقسیم نہ کردیا جائے۔ یہ کانفرنس پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی جماعت اسلامی نے مظفرآباد میں منعقد کی۔ اس کانفرنس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ۔اس موقع پرپاکستان کی دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے قاضی حسین احمد نے اپنے خطاب میں پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی کشمیر پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’کشمیر کے مسُلے کا حل اقوام متحدہ کی قرادادوں کی روشنی میں آزادانہ استصواب رائے میں ہے اور اس کے علاوہ ہمیں کشمیر تنازعہ کا کوئی اورحل یا موقف قبول نہیں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ’ جب تک پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر ، گلگت بلتستان اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کشمیری عوام اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصواب رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر لیتے اسوقت تک ریاست جموں کشمیر کا سارا علاقہ خواہ وہ پاکستان کے زیر انتظام ہو یا بھارت کے زیر انتظام متنازعہ ہے‘۔ انہوں نے کہا’ پرویز مشرف یا ان کے کہنے کہ مطابق امریکہ کی سرکردگی میں کوئی بین الااقوامی سازش ہمیں کشمیر پر اپنے قومی موقف سے نہیں ہٹا سکتی‘۔ انہوں نےمزید کہا ’ پرویز مشرف نے مسلہ کشمیر کو صرف کنفیوز ہی نہیں کیا ہے بلکہ امریکہ کے انجینٹ کے حثیت سے وہ خود جہاد کے خلاف ہیں اور جہاد کے خلاف امریکہ کے ماؤتھ پیس بنے ہوئے ہیں اور جہاد کو دہشت گردی قرار دے رہے ہیں‘۔ جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد نے کہا’ ہم اس بات کا اعلان کرتے ہیں اللہ کی راہ میں شہادت اور جہاد ہمارے دو ہتھیار ہیں اور ہمارے لئے یہی دو ہتھیار کافی ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر تنازعہ کے وجود سے انکاری ہے ایسے میں یہ مسلہ پرامن طریقے سے بات چیت کے ذریعے کیسے حل ہوسکتا ہے اور یہ کہ ’ایسی صورت حال میں اس تنازعہ کا حل صرف جہاد میں ہے‘ ۔ انہوں نے کہا ہمارے پاس کشمیر اور امت مسلمہ کی آزادی کے لئے جو ہتھیار ہے وہ جہاد ہی ہے‘۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان کی فوج کے جرنیلوں کے بارے میں کہا وہ اب ارب پتی بن گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سارے لینڈ مافیا اور تمام جرنیل اور چھوٹا بڑاافسر مسلسل کاروبار میں مصروف ہیں ۔ انہوں نے کہا ناجائز دولت سمیٹ کر بیرون ملک منتقل کرنے والے کیسے ملک کا دفاع کریں گے ۔ قاضی حسین احمد کا یہ بیان ایک ایسے مرحلے پر آیا جب دونوں ممالک کشمیر سمیت تمام تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔
اس موقع پر بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں برسرپیکار کلعدم عسکری تنظیم لشکر طیبہ کے سابق سربراہ پروفیسر حافظ محمد سیعد نے اپنے خطاب میں کشمیر میں جہاد کا درس دیتے ہوئے کہا ہمیں کشمیر کا بھارت سے آزادی کے سوا کوئی اور حل قبول نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد میں اس وقت تک شامل رہیں گے جب تک کشمیر بھارت سے آزاد نہیں ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم مرعوب نہیں ہونگے اور نہ ہی کسی دباؤ کا شکار ہوکر کشمیریوں کا ساتھ چھوڑیں گے ۔ کانفرنس ایک ایسے مرحلے پر بلائی گئی جب کشمیر کے حل کے بارے میں کئی تجاویز پیش کی جارہی ہیں ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||