BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 July, 2005, 13:10 GMT 18:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حسبہ بل سرحد اسمبلی میں

 سرحد اسمبلی
ایم ایم اے حسبہ بل پر ایوان میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے ناکام رہی
صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے دو سال تک اتفاق رائے کی کوششوں کے بعد بلا آخر پیر کو متنازعہ حِسبہ بل صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا۔

اس موقع پر حزب اختلاف کی جماعتوں نے شدید احتجاج کیا اور چند اراکین نے اس مجوزہ قانون کی کاپیاں ہوا میں پھینکیں۔

سرحد اسمبلی میں مجوزہ حسبہ بل کے پیش کئے جانے کے وقت اگر حزب اختلاف کے اراکین کا ردعمل کسی بات کی نشاندہی کر رہا تھا تو وہ یہی تھی کہ متحدہ مجلس عمل کی جانب سے حسبہ بل پر اتفاق رائے کی دو سالہ کوششیں کچھ زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہوئی ہیں۔

صوبائی وزیر قانون ملک ظفر اعظم نے جب بل ایوان کے سامنے پیش کرنے کے لیے بولنا شروع کیا تو حزب اختلاف کے تقریبا تمام اراکین نے کھڑے ہوکر ’ نو، نو‘ کے نعرے بلند کرنا شروع کر دیے اور وہ حِسبہ بل کو کالا قانون قرار دینے لگے۔

دوسری جانب ایم ایم کے اراکین نے ڈسک بجانا شروع کر دیا۔ اس شوروغل میں چند اراکین نے تو مجوزہ بل کی کاپیاں بھی ہوا میں پھینکیں۔ تاہم سپیکر کی جانب سے بل متعارف ہونے کے اعلان کے بعد ایوان معمول پر آگیا۔

ابھی یہ بات سامنے نہیں آئی ہے کہ اس متنازعہ بل پر تفصیلی بحث اور رائے شماری کب ہوتی ہے۔ اس اہم موقعہ پر قائد حزب اختلاف اور جعمیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی مہمانوں کی گیلری میں موجود تھے۔

بعد میں صحافیوں سے سے بات کرتہ ہوئے انہوں نے اسے صوبے کی عوام کی خواہشات کے مطابق ایک قدم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ سے لے کر پاکستان تک لا دینی قوتیں اس بل کو بلاضرورت ایک خطرے کے طور پر پیش کر رہی ہیں جوکہ غلط ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے معاشرتی برائیوں کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ اس سوال کے جواب میں کہ آیا بل کو چوہدری شجاعت حسین کے مطالبے کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس دوبارہ غور کے لیے بھیجا جائے گا، مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ایم ایم اے کونسل کی تشکیل پر پہلے ہی عدم اعتماد کا اظہار کرچکی ہے۔

انہوں نے آج کے دن کو سرحد کی عوام کے لیے جشن کا دن قرار دیا اور کہا کہ اس بل کی منظوری کے وقت صوبے میں جشن کا سا سماں ہوگا۔

تاہم حزب اختلاف کے رہنما شہزادہ گستاسپ کے بقول یہ بل ایک پارٹی کی حکمرانی قائم کرنے کے جانب ایک قدم ہے۔ ’ایم ایم اے اس ادارے کے ذریعے صوبے میں گراس روٹ لیول تک اپنے آدمی پہنچانا چاہتی ہے‘۔

حزب اختلاف کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے بشیر احمد بلور نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حسبہ ادارہ طالبانائزیشن کی جانب ایک قدم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم طالبانائزیشن اور ملا ازم کو یہاں نہیں آنے دیں گے۔ اگرچہ ایم ایم اے اسے اپنی طاقت کے بل پر بھی منظور کرا سکتی ہے جس کی ہم مخالفت کریں گے لیکن اگر ایسا ہوتا ہے تو ہم عوام کے پاس جائیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں مرکز کے پاس بھی چند اختیارات ہیں۔ وہ بھی ان کے بقول یہ ساری صورتحال دیکھ رہی ہوگی۔

صوبہ کے ذرائع ابلاغ میں پہلے ہی حسبہ کے متعلق ایک بحث جاری ہے اس بل کے اسمبلی میں پیش ہونے سے اس میں مزید تیزی آنے کی توقع ہے۔

بل پیش ہونے کے وقت وزیر اعلی سرحد اکرم خان درّانی موجود نہیں تھے جوکہ آج کل امریکہ کے دورے پر ہیں۔

ایم ایم اے اس قانون کے تحت دیگر صوبوں کی طرح محتسب کا ادارہ قائم کرنا چاہتی ہے لیکن باقی صوبوں کے علاوہ اس ادارے کو معاشرے کو اسلامی اقدار کے مطابق ڈھالنے کی ذمہ داری بھی دینا چاہتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد