’حسبہ بل اسمبلی میں پیش ہو گا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرحد حکومت نے مجوزہ حِسبہ بل کو ملکی قانون اور آئین کے مطابق قرار دیتے ہوئے اسے گیارہ جولائی کو صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پشاور میں صحافیوں کو اس متنازعہ بل کے بارے میں ایک بریفنگ دیتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر سراج الحق نے اس مجوزہ ادارے کے بارے میں شکوک وشبہات کو بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر تین صوبوں میں محتسب کے نام سے یہ ادارہ پہلے ہی کام کر رہا ہے جبکہ سرحد میں اسے حِسبہ کے نام سے اب قائم کیا جا رہا ہے۔ دیگر صوبوں میں قائم محتسب اداروں سے حسبہ کا فرق واضع کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ اسے سرحد میں اسے ضلع اور تحصیل کی سطح پر قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حسبہ کا محتسب کا سے ایک اور فرق یہ ہے کہ دیگر صوبوں میں جج بننے کی اہلیت رکھنے والا محتسب مقرر ہوسکتا ہے جبکہ سرحد میں اس کے لیے دینی علوم بھی لازمی ہوگا۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سراج الحق کا کہنا تھا کہ اس ادارے کو سرحد میں ایک اضافی ذمہ داری اداروں کے علاوہ معاشرتی اصلاح بھی سونپنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدشات دور کرنے کے لیے انہوں نے دو برس تک کام کیا اور مختلف شہروں میں سیمینار منعقد کیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسے آرڈیننس کے ذریعے نہیں بلکہ منتخب اسمبلی کے ذریعے قانونی شکل دیں گے اور ایوان کے اندر ہر کسی کو اس پر رائے دینے کا حق حاصل ہوگا۔ سینئیر وزیر نے اس تاثر کو بے بنیاد قرار دیا کہ اس بل کے نتیجے میں ان کی حکومت کو کوئی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کو بھی اس مجوزہ بل کی ایک کاپی ارسال کر دی گئی ہے جبکہ مرکز میں حکمراں جماعت مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور جنرل سیکٹری مشاہد حسین کو بھی وزیر اعلی سرحد اکرم خان دورانی نے ایک ملاقات میں اسے بل سے آگاہ کیا ہے۔ عوامی رائے ہموار کرنے کے لیے جمعرات کے روز پشاور میں سرحد اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی اس سلسلے میں ایک بریفنگ دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ بغیر پڑھے اس ادارے کے بارے میں رائے قائم کیے ہوئے ہیں جوکہ درست نہیں۔ اس موقعے پر اس بل کے معمار صوبائی سیکٹری قانون امیر گلاب نے صحافیوں کو بل سے متعلق بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں معاشرے کو اسلامی اقدار کے مطابق ڈھالنے کے لیے محتسب کو ذمہ داریاں اسلامی نظریاتی کونسل کی 1996 کی رپورٹ سے لی گئی ہیں۔ انہوں نے طالبان طرز کی کسی پولیس فورس کی تیاری یا اس ادارے کا عدالتوں کے متوازی کوئی نظام بنانے کے تاثر کو بھی غلط قرار دیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||