حسبہ بل ایک بار پھر کیوں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت نے مجوزہ حسبہ بل پر اتفاق رائے پیدا کرنے اور عوامی خدشات دور کرنے کی مہم کا آغاز کیا ہے لیکن اس سے اس بل کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں ایک نئی گرما گرم بحث بھی چھڑ گئی ہے۔ حکومت میں آنے کے بعد چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے صوبے میں نفاذ شریعت کے لیے کوششیں شروع کیں۔ اس سلسلے میں نفاذ شریعت بل سرحد اسمبلی سے منظور کرایا اور اب اس کا کہنا ہے کہ اس کے عملی نفاذ کے لیے اسے حسبہ جیسے ایک محتسب کی ضرورت ہے۔ یہ محتسب عدالتوں کو جواب دے بھی نہیں ہوگا اور عدالتیں بھی اس کے کام میں داخل اندازی نہیں کر سکیں گی۔ وہ ہر چیز پر نظر رکھے گا۔ وہ آوارہ گردی اور عوامی مقامات پر نازیبہ رویہ جیسے مبہم افکار کا تدارک کرے گا۔ اس کے فرائض میں بدعنوانی اور اس جیسے چھبیس دیگر امور بھی بل میں شامل ہیں جو اس محتسب کے دائرۂ عمل میں ہونگے۔ گزشتہ اتوار ایم ایم اے کی صوبائی حکومت نے پہلی مرتبہ حسبہ کے ادارے کے قیام کے لیے مجوزہ قانون سازی کا بل عوام کے سامنے ایک سیمنار میں باقاعدہ جائزے اور تجاویز کے لیے رکھا۔ اس سے قبل ایم ایم اے اس بل پر عوامی بحث کی بظاہر مخالف تھی اور اس کا کہنا تھا کہ اس پر صرف منتخب نمائندے اسمبلی میں ہی بات کر سکیں گے۔ پھر اس نے گورنر سرحد کو اعتماد میں لینے کی غرض سے تین چار مرتبہ یہ بل منظوری کے لیے بھیجا لیکن اس میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔ حالانکہ سرحد اسمبلی میں اس بل کی مخلاف عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی رہنما بشیر بلور کا کہنا ہے کہ اس کی ضرورت ہرگز نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کو قانون سازی کے لیے پہلے اسمبلی اور بعد میں گورنر کے پاس بھیجا جانا چاہیے تھا۔ وہ الزام لگاتے ہیں کہ اس کا مقصد صرف سیاسی فائدہ اٹھانا تھا اور ایم ایم اے اس بل کو منظور کرانے میں مخلص نہیں تھی۔ ’یہ صرف تاخیری حربے تھے۔‘
اسمبلی میں پیش نہ کرنے کے بعد اسے اب عوام کے سامنے لایا گیا ہے جس سے اس بارے میں اس کے حامیوں اور مخالفین میں بیان بازی کا نیا سلسلہ چل نکلا ہے۔ کوئی اسے صوبائی حکومت کی آئینی ذمہ داری اور اسلامی نظام کی ریڑھ کی ہڈی جبکہ کوئی اسے ’مولویوں کا مارشل لا‘ قرار دے رہا ہے۔ حقوق انسانی کمیشن کے سابق سربراہ اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک سے اس بل کو اس وقت دوبارہ سامنے لائے جانے کی وجہ جاننے کے بارے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر ایم ایم اے اور حکومت کے درمیان جو ایل ایف او، صدر کی وردی اور دیگر معاملات پر مفاہمت کے جواب میں دینی جماعتوں کا اتحاد بھی حکومت سے کچھ توقع کر رہا تھا اور حسبہ بل شاید یہی انعام ہوگا۔ سرکاری سیمنار کے بعد اس بل پر بحث کے لیے غیر سرکاری تنظیم حقوق انسانی کمیشن آف پاکستان نے بدھ کے روز پشاور پریس کلب میں ایک ’غیرسرکاری‘ سیمینار منعقد کیا۔ اس سیمنار میں ایم ایم اے کے برعکس سرحد اسمبلی میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنما، وکلاء اور حقوق انسانی کی تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے۔ جذباتی تقاریر ہوئیں اور مقریرین نے اسے سیاسی فوائد حاصل کرنے کی ایک کوشش قرار دیا۔ جو دیگر الزامات سامنے آئے ان میں اس مجوزہ ادارے میں مولویوں کے لیے نوکریوں کی جگہ پیدا کرنا، انفرادی آزادیوں کو غصب کرنا اور متوازی عدالتی نظام قائم کرنا ہے۔ جواب میں صوبائی وزیر قانون ملک ظفر اعظم اپنے موقف پر ڈٹے رہے کہ امر بالمعرف و نہی عنل منکر اسلامی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتا ہے اور حکومت اسے نافذ کر کے رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بل کو بلڈوز نہیں کرنا چاہتے اور عوام کی امنگوں کے مطابق اسے ڈھالیں گے البتہ وہ اس بل میں اس سے متعلق اٹھائے جانے والے اعتراضات کو جگہ دینے کا کوئی عندیہ نہیں دے رہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||