سرحد: بےحرمتی، مندر نظر آتش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی حکومت نے نوشہرہ میں ایک عیسائی کے ہاتھوں قرآن مجید کی مبینہ بےحرمتی کے واقعے اور اس کے تنیجے میں مشتعل ہجوم کی جانب سے ایک مندر کو نذر آتش کیے جانے والے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ صوبائی حکومت نے کارروائی کرتے ہوئے نوشہرہ کینٹ کے ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو معطل بھی کر دیا ہے۔ ساتھ میں مندر کو پہنچائے جانے والے نقصان کے ازالے کا حکم بھی دیا ہے۔ اس واقعے میں مبینہ طور پر ملوث پینتیس سالہ یوسف مسیح کو پولیس نے پہلے ہی حراست میں لے رکھا ہے۔ پشاور سے چالیس کلومیٹر مشرق میں نوشہرہ شہر میں قرآن کریم کی مبینہ بےحرمتی کا یہ واقعہ منگل کو پیش آیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق پینتیس سالہ یوسف مسیح کے علاقے کے لوگوں نے پولیس کو اطلاع دی کہ وہ مبینہ طور پر قرآن مجید کے صفحات کو آگ لگا رہا ہے۔ اس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا۔ اس خبر کے ملنے پر علاقے کے لوگ مشتعل ہوگئے، انہوں نے نوشہرہ کینٹ تھانے کے سامنے دھرنا دیا، جی ٹی روڈ بلاک کیا اور قریب ہی لمبا ویڑہ میں ایک مندر پر پتھراؤ کیا اور اسے نذر آتش کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے بعد میں مظاہرین کو منتشر کر دیا۔ تاہم مندر پر حملے کے الزام میں آٹھ افراد کو حراست میں لے لیا۔ اس معاملے پر آج صوبائی اسمبلی میں بھی بات ہوئی اور اقلیتی اراکین نے نوشہرہ کی اقلیتی برادری کے عدم تحفظ کا شکار ہونے کی شکایت کی۔ اس موقعہ پر صوبائی وزیر قانون ملک ظفر اعظم نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا۔ ادھر چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے آج اس مندر کا دورہ کیا اور صوبائی حکومت کی جانب سے اسے پہنچنے والے نقصان کے ازالے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے ضلعی حکام کو اقلیتی عبادت گاہوں کی حفاظت کے خصوصی انتظامات کا حکم دیا۔ پاکستان میں مذہب کی توہین کے الزام کے متنازعہ قانون کے تحت سزاے موت دی جاسکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||