قرآن کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے شہر شیخوپورہ میں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی پر احتجاج کرنے والے مظاہرین نے پولیس کی چوکی کو آگ لگانےکے بعد مسمار کر دیا ہے۔ شیخوپورہ سے کوئی چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک قصبہ اجنیانوالہ کے سینکڑوں مکین قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعے کے خلاف دو روز سے احتجاج کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دو روز پہلے ایک شخص مظہر اقبال کو مقامی لوگوں نے مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مـجید کے اوراق پھاڑنے اور اس کی بے حرمتی کرنے کے الزام میں پکڑ لیا تھا اور مقامی پولیس چوکی لے گئے تھے۔ شیخوپورہ کے ڈسٹرکٹ پولیس آفس میں تعینات ایک پولیس اہلکارنے بتایا کہ ملزم کا ذہنی توازن درست نہیں تھا۔ اس کے بھائیوں کی مداخلت پر پولیس نے اسے دیوانہ قرار دیکر کوئی کارروائی کیے بغیر چھوڑ دیا۔ یہ اطلاع مقامی لوگوں کو ملی تو وہ مشتعل ہوگئے انہوں نے پیر کےروز پولیس چوکی پر حملہ کرکے اسے آگ لگادی اور اگلے روز یعنی منگل کو پولیس چوکی کو مسمار کر دیا۔ مظاہرین نے پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہناتھا کہ ملزم کو فرار کرانے والے پولیس اہلکاروں کو بھی سزادی جاۓ۔ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر اظہر حسن ندیم نے کہا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے لاہور سے ایک خصوصی ٹیم شیخوپور روانہ کر دی گئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||