سرحد: فحش مواد نذرِ آتش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نےصوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں صوبائی حکومت کی جانب سے جاری انسداد فحاشی مہم کے سلسلے میں بڑی تعداد میں فُحش مواد نذر آتش کیا ہے۔ پشاور کی بڑے کارخانو بازار میں مقامی تاجروں کی مدد سے جمع کی گئی فحش فلموں کی ہزاروں سی ڈیز، پوسٹرز، جنسی طاقت بڑھانے کی ادویات اور کنڈوم کو پولیس نے ایک تقریب میں نذر آتش کیا۔ نذر آتش کی جانے والی تقریبا تیس ہزار اشیاء میں پشتو اور انگریزی فلموں اور سٹیج ڈراموں کی سی ڈیز بھی شامل تھیں۔ اس موقع پر صوبائی وزیر مذہبی امور مولانا امان اللہ حقانی بھی موجود تھے جنہوں نے اپنی حکومت کے اس عزم کو دہرایا کہ صوبے کو فحاشی سے پاک کیا جائے گا۔ صوبائی حکومت کی انسداد فحاشی کمیٹی کے سیکرٹری حاجی احسان الحق نے پولیس پر نئے سال کی تقریبات کے انعقاد کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے تیاری کرنے کے لئے زور دیا۔ چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد سے فحاشی کے خلاف ایک منظم تحریک شروع کر رکھی ہے جس کے تحت پہلے ہی صوبے میں سینما گھروں کو انسانی تصاویر پر مشتمل بڑے بڑے پوسٹر آویزاں کرنے، ویڈیو سینٹروں میں پوسٹرز لگانے اور مسافر گاڑیوں میں گانے بجانے پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔ صوبائی کابینہ نے فحاشی کے پھیلاؤ کو روکنے کی خاطر ایس پی عہدہ کے ایک اعلی پولیس افسر کو تعینات کرنے کا بھی فیصلہ کیا تھا۔ ماضی میں بھی کئی مرتبہ فحش مواد کو نذر آتش کرنے کی کارروائیاں کی جاچکی ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ مواد مخصوص بازاروں اب بھی باآسانی دستیاب ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||