BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 June, 2004, 13:26 GMT 18:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشتوفلموں میں کوئی بحران نہیں

قمندان
اس فلم کی کامیابی کی وجہ کہانی اور اچھے میوزک کو قرار دیا جا رہا ہے
کچھ سال سے پاکستانی فلم انڈسٹری بحران کا شکار ہے۔ ایسے میں پنجاب اور سندھ میں سنیما مالکان ایسی فلموں کی تلاش میں ہیں جو فلم بینوں کو سنیما گھروں میں واپس لا سکیں۔

لالی وڈ میں موجودہ بحران کے پیش نظر ان کا خیال ہے کہ بھارتی فلموں کی درآمد ہی کراچی اور لاہور سرکٹ میں سنیما گھروں کی رونق بحال کر سکتی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ہڑتال کی دھمکی بھی دی ہے۔

اس کے برعکس صوبہ سرحد کے سنیماؤں میں حالات اتنے بری نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پشتو میں نہ صرف اچھی فلمیں بن رہی ہیں بلکہ سنیماؤں میں فلم بینوں کی بھی کوئی کمی نہیں۔

کچھ لوگوں کے خیال میں اس بہتری کی بنیادی وجہ نئے اداکاروں کی پشتو فلموں میں آمد ہے۔ ان میں ارباز خان کا نام قابل ذکر ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ فلم کے موضوعات اور کہانیوں میں بھی بہتری آئی ہے۔

آفتاب صابری
آفتاب صابری نئی فلموں کی کامیابی پر بہت خوش ہیں
آفتاب صابری پشاور میں واقع چار سنیما گھروں کے مالک ہیں اور وہ اس کاروبار سے پچھلے پچاس سال سے وابستہ ہیں۔ اُن کے خیال میں پشتو فلموں میں بہتری کی وجہ ہدایتکاروں کا نئے موضوعات پر فلمیں بنانا ہے۔

ان کا کہنا ہے نئی فلموں میں معاشرتی مسائل کی صحیح ترجمانی کی گئی ہے جس کی وجہ سے لوگوں نے دوبارہ سنیما گھروں کا رُخ کیا ہے۔

آفتاب صابری کے مطابق سپر ہٹ فلموں میں ’جشن‘، ’باڈی گارڈ‘، ’مہ خرابےکا‘، ’مینا قربانی واڑی‘(محبت قربانی مانگتی ہے) اور حالیہ دنوں میں ریلیز ہونے والی فلم ’قمندان‘ شامل ہے اور یہی وہ فلمیں ہیں جنہوں کی حکومت کو ریونیو دیا ہے۔

پشتو فلموں کے شائق امتیاز خان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے تک بننے والی فلموں میں گانوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہوتی تھی کہ کہانی کے لیے کوئی جگہ ہی نہیں بچتی تھی۔

’فحش ڈانسوں اور نامناسب کہانیوں کی وجہ سے لوگوں نے سنیما کی طرف آنا چھوڑ دیا تھا۔ اب کچھ تبدیلی ضرور آئی ہے۔ نئے اداکار بھی آئے ہیں اور کہانیوں میں بھی تبدیلی آئی ہے لیکن ابھی بھی اس میں کافی وقت لگے گا جب لوگ اپنی فیملی کے ساتھ دوبارہ فلم دیکھنے سنیما گھر آئیں گے۔البتہ پچھلے چند مہینوں میں ریلیز ہونے والی فلموں کی وجہ سے سنیما گھروں کے کاروبار میں بہتری ضرور آئی ہے۔‘

گزشتہ ہفتے پشاور اور مردان میں ریلیز ہونے والی پشتو ’قمندان‘ کے پروڈیوسر عبدالرحیم اپنی فلم کی کامیابی سے بہت خوش ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اُنکی یہ فلم بہت پسند کی گئی ہے ۔فلم کے ہدایت کار کی اچھی ساکھ کے پیش نظر فلم کے پہلے شو میں اتنا رش تھا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو سنیما گھر میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے واپس جانا پڑا۔ اور یہ ایسا بہت عرصے بعد ہوا کہ جب لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے فلم میں اس قدر دلچسپی لی ہو۔

عبدالرحیم کے خیال میں ’قمندان‘ کی کامیابی کی ایک وجہ اس کی کہانی اور اچھا میوزک ہے۔ اس کے علاوہ فلم کی بہتر عکس بندی کا اہم کردار ہے۔

عبدالرحیم کا کہنا تھا کہ ’قمندان‘ فارسی لفظ ہے جس کا معنی ’کمانڈو‘ ہیں۔ وہ اپنی اس فلم کو افغانستان میں بھی دکھانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس سلسلے اُنکی کوششیں جاری ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد