پشتو سٹیج: پردہ کب اٹھے گا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کا شمال مغربی صوبہ سرحد ملک کے دیگر علاقوں سے قدرے ذیادہ قدامت پسند تصور کیا جاتا ہے۔ اگر ملک کے دیگر حصوں میں خوشیاں منانے کے بہانے تلاش کئے جاتے ہیں تو یہاں مذہبی ذہن رکھنے والے اپنے اثر کے ذریعے ایسی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیتے۔ صوبے میں چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت آنے کے بعد سے موسیقی اور ڈراموں پر مکمل پابندی ہے۔ پشتو سٹیج ڈراموں پر اس پابندی کو تقریبا ڈیڑھ برس ہوچکا ہے لیکن ابھی بھی اس کے خاتمے کی کوئی امید نہیں۔ ماضی میں ان ڈراموں کا مرکز نشتر ہال رہا ہے جو اب بند پڑا دھول اکھٹی کر رہا ہے۔ کبھی کبھار کوئی سیاسی جماعت یہاں کی چھ سو نشتوں کے حال میں کوئی مجمعہ اکٹھا کر لے تو کر لے ویسے یہاں اب اُلو ہی بولتے ہیں۔ یہاں فنون لطیفہ کی تربیت کی کلاسیں بھی بند ہوچکی ہیں۔ یعنی فن و فنکار دونوں جمود کا شکار ہیں۔ اس پابندی کا حل ڈرامے سٹیج کرنے والوں اور اس میں کام کرنے والے فنکاروں نے جدید اور (چین کی وجہ سے انتہائی) سستی سی ڈیز کی شکل میں نکالا ہے۔ پشتو ڈراموں کے شوقین اسی سے کام چلا رہے ہیں۔ پہلے اُنہیں پچاس روپے کا ٹکٹ خرید کر دو گھنٹے کی سستی موسیقی، سیکسی رقص اور مزاح مل جایا کرتا تھا۔ اس دوران وہ تالیاں اور سیٹیاں بجا کر دل کا غبار نکال لیا کرتے تھے۔ اس داد سے فنکاروں کا خون اور معاوضہ بڑھتا تھا۔ لیکن اب یہ فنکار اس سے محروم ہوچکے ہیں جبکہ شائقین گھروں میں ٹی وی پر دیکھ کر ذیادہ سے ذیادہ دو قہقہے ہی لگا سکتے ہیں۔ تقریبا پچیس کنال پر پھیلا ہوا نشتر ہال انیسو اٹھاسی میں لوگوں کو صحت مند تفریح فراہم کرنے کے تعمیر کیا گیا تھا۔ یہاں تقریبا روزانہ ہی ڈرامے منعقد کئے جاتے تھے جنہیں دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ اس کا رخ کیا کرتے تھے۔ لیکن ایم ایم اے کی حکومت نے ان ڈراموں کے متنازعہ معیار کو وجہ بتاتے ہوئے اسے بند کر دیا۔ التبہ اس پابندی سے نمٹنے کے لئے ڈرامے سٹیج کرنے والوں نے سی ڈیز پر ان کی تیاری اور فروخت شروع کردی ہے۔ مسافر آرٹس کونسل کے سربراہ مسافر خان کا کہنا ہے کہ ان سے ذیادہ ڈرامے اس ہال میں کسی نے نہیں کئے۔ انہوں نے سی ڈیز پر ڈراموں کی تیاری کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اس سے منسلک کئی فنکاروں کا چولہا اس سے جلتا تھا۔ ’یہ فنکار کافی برے وقت سے گزر رہے تھے۔ اگرچہ سی ڈیز پر ڈراموں کی تیاری میں خرچہ ذیادہ آتا ہے لیکن اس کی فروخت سے یہ قدرے پورا ہو جاتا ہے۔‘ مسافر خان یہ الزام ماننے کو تیار نہیں کہ ان کے ڈراموں میں پختون ثقافت کی غلط عکاسی ہوتی تھی یا وہ فحاشی پر مبنی ہوا کرتے تھے۔ ’میرے پاس میرے تمام ڈراموں کا ریکارڈ موجود ہے ان میں ایسی کوئی بات نہیں۔ یہ ڈرامے ہم اپنے گھروں میں اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھتے ہیں۔‘ اس پابندی سے سٹیج فنکاروں کو معاشی مشکلات نے دبوچ لیا ہے۔ معروف فنکاروں کو تو دوبئی میں متبادل ذریعہ میسر آگیا ہے لیکن نئے اور چھوٹے فنکار پشاور میں ہی برے دن گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان میں عابد گوریانی بھی شامل ہیں جن کا موقف ہے کہ انہیں اس سرکاری پابندی سے سخت نااُمیدی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نشتر ہال میں وہ مہینے کے بیس روز مصروف رہتے ہیں جبکہ سی ڈی ڈرامے کبھی کبھی کئے جا رہے ہیں۔ اس سے ہم پر بہت برا اثر پڑا ہے اگر کوئی جاننے کی کوشش کرے تو۔ مقامی فنکار اس ہال سے کیا امیدیں لگائے بیٹھے تھے اور کیا ہوگیا۔ عابد گوریانی کا کہنا ہے کہ وہ اُمید کر رہے تھے کہ ڈرامے فروغ پائیں گے اور صوبے میں بات اس واحد ہال سے آگے بڑھے گی اور دیگر شہروں میں بھی کھلیں گے اور ان کو ذیادہ کام میسر آئے گا لیکن افسوس کے وہ واحد ہال بھی بند ہوگیا۔ صوبے میں دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت کے آنے کے بعد سے ان فنکاروں کی نشتر ہال کی رونقیں بحال ہونے کی اُمیدیں دم توڑ چکی ہیں۔ دوسری جانب حکام بھی ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے ہیں کہ اس کا ہال کا کیا حال کیا جائے۔ صوبائی وزیر کھیل اور ثقافت راجہ فیصل زمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس سلسلے میں ایک سمری وزیراعلی کو بھیجی تھی جنہوں نے دو افراد پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دی تھی جو نشتر ہال میں سرگرمیوں کی نگرانی کرے گی اور اس بات کب یقینی بنائے گی کہ یہ اسلامی اقدار کے مطابق ہوں۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ منتخب کئے جانے والے افراد اس کام کے لئے وقت وقف نہیں کر سکے لہذا اب دبارہ اس کمیٹی کی تشکیل کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ نشتر ہال جلد کھول دیا جائے گا۔ ایم ایم اے حکومت کے آنے سے قبل صوبائی حکومت نے نشتر ہال کے قریب دو ہزار نشتوں والے اوپن ائر ہال کا منصوبہ بھی بنایا تھا۔ اس چار کڑور روپے کے منصوبے کا افتتاح صوبائی گورنر نے اکتوبر دو ہزار ایک کے عام انتخابات سے چند ہفتے قبل کیا تھا لیکن وہ بھی اب سرد مہری کا شکار ہوگیا ہے۔ وجہ ظاہر ہے۔ اب نشتر ہال عوام کے قہقہوں سے دوبارہ کب گونجےگا اس کا انتظار فنکاروں سمیت عوام کو بھی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||