| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلمی دنیا میں قتل کاایک اور معمہ
نگینہ خانم کا نام اگرچہ عام شخص کو ناآشناسا سا محسوس ہوگا لیکن لاہور کی فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے کسی بھی فرد کے لئے یہ نام اجنبی نہیں ہے۔تاہم اب یہ نام پاکستان کے ہر شخص کے لئے خاصا جانا پہچانا بن گیا ہے جس کی وجہ قتل کی وہ واردات ہے جو چوبیس ستمبر کی صبح لاہور میں ہوئی۔ اس واردات کے دوران نامعلوم قاتلوں نے نگینہ خانم، ان کی تیس سالہ بیٹی، دو پوتوں، پشتو فلموں کے ہدایت کار ناصر رضا خان اور تین دیگر افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ اس واقعہ کے بعد لاہور کی فلمی صنعت سے وابستہ فنکاروں میں عدم تحفظ کی ایک لہر دوڑ گئی اور کئی ہیروئنوں نے راتوں رات ذاتی محافظ رکھ لئے۔ پینسٹھ سالہ نگینہ خانم کا تعلق پشاور سے تھا۔ انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز پینتس سال پہلے بطور گلوکارہ کیا اور مختلف پشتو فلموں کے لئے ایک سو تیس گانے گانے کے علاوہ ایک سو سے زائد فلموں میں کام کیا۔ انہیں بطور اداکارہ ایس ایم یوسف نے اپنی فلم ’اولاد‘ میں متعارف کرایا جہاں ان کے مدمقابل اداکار لہری تھے۔
انہوں نے کئی پشتو فلموں میں بدرمنیر کی والدہ کا کردار ادا کیا اور اس کردار کے لئے وہ پشتو فلموں کا اسی طرح ایک لازمی حصہ سمجھی جاتی تھیں جس طرح پنجابی فلموں میں اداکارہ بہار سمجھی جاتی ہیں۔ بطور اداکارہ نگینہ خانم کی آخری فلم ’مہندی والے ہاتھ‘ تھی جو دو سال قبل ریلیز ہوئی۔ نگینہ خانم نے گلوکاری اور اداکاری کے علاوہ خود بھی پانچ فلمیں بنائیں۔ ان میں سے ایک فلم (جینے دو) اردو زبان جبکہ باقی پشتو میں تھیں۔ اپنے قتل سے قبل بھی وہ ایک پشتو فلم بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں۔ قتل کی اس واردات میں کام آنے والے پشتو فلموں کے ہدایت کار ناصر رضا خان اسی مقصد کے لئے ایک ماہ سے ان کے گھر مقیم تھے۔ نگینہ خانم کا ارادہ تھا کہ وہ اپنے چھوٹے بیٹے علی نواز خان کو اس فلم میں بطور ہیرو متعارف کرائیں۔ ان کے بڑے بیٹے محمد نواز خان فلم انڈسٹری اور ٹی وی کے جانے پہچانے اداکار ہیں اور متعدد فلموں، ڈراموں اور وڈیوز میں کام کر چکے ہیں۔ نگینہ خانم کی شخصیت خاصی متنازعہ سمجھی جاتی تھی۔ وہ عرصے سے لاہور میں نگینہ آرٹ اینڈ ڈانس اکیڈیمی کے نام سے ایک ادارہ چلا رہی تھیں جس نے فلم انڈسٹری کو بہت سی اداکاراؤں سے نوازا۔ ان میں اداکاری صائمہ بھی شامل ہیں جنہیں آجکل لاہور میں تیار ہونے والی ہر فلم میں مجبوری سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مخالفین کے مطابق نگینہ خانم آرٹ اینڈ ڈانس اکیڈیمی کی آڑ میں جسم فروشی کا اڈہ چلا رہی تھیں۔ ایک دور میں نگینہ خانم سیاست میں بھی سرگرم رہیں اور مسلم لیگ کلچرل ونگ میں خاصی سرگرم نظر آئیں۔ وہ حال ہی میں کینیڈا میں اپنی بیٹی اور سابق شوہر کے ساتھ کچھ عرصہ گزارنے کے بعد وطن واپس آئی تھیں۔ ان کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ خود بھی مستقل طور پر کینیڈا میں رہائش اختیار کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہی تھیں۔ نگینہ خانم اور ان کے ساتھ سات افراد کو کس نے قتل کیا؟ اس بارے میں مختلف رائے سامنے آئی ہیں۔ پولیس کا خیال ہے کہ یہ قتل ان لوگوں نے کیا ہے جن کا نگینہ خانم کے ساتھ ایک لڑکی کے سلسلے میں تنازعہ چل رہا تھا۔ انہوں نے نگینہ خانم کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔ قاتلوں نے چوبیس ستمبر کی صبح انتہائی مہارت سے گھر میں گھس کر تمام افراد کو ایک بیڈروم میں بند کیا، ان کے ہاتھ پاؤں باندھے، ان کے منہ میں کپڑے ٹھونس دیئے تاکہ وہ شور نے بچا سکیں اور ان کے سروں میں گولیاں مار کر چلے گئے۔ اس وقت نگینہ خانم کا چھوٹا بیٹا علی نواز اوپر والے کمرے میں سو رہا تھا۔ وہ اسے پولیس نے شامل تفتیش کرکے حراست میں لے رکھا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ جلد قتل کے اس کیس کی مختلف گتھیوں کو سلجھا لے گی۔ پولیس نے اس سلسلے میں چارسدہ سے بعض افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ پولیس جو آج تک کسی بھی فنکار کے قتل کے معمے کو حل نہیں پائی نگینہ خانم اور سات دیگر افراد کے قاتلوں کو گرفتار کر پائی گی؟ سلطان راہی، نادرہ، نیناں اور نوشابہ مریم کے قتل کے مقدمات پر ہونے والی پیش رفت کو سامنے رکھا جائے تو جواب نفی میں ملتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||