کراچی کے چھ اخبارات پر پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں صوبائی حکومت نے بدھ کو فحاشی اور عریانی پھیلانے کے الزامات پر چھ اخبارات کو سیل کر دیا ہے اور گیارہ افراد کو جن میں ان اخبارات کے مدیران، ناشر اور چند اہلکار بھی شامل ہیں گرفتار کر لیا ہے۔ کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ صوبائی حکومت کےاحکامات پر بدھ کی صبح پولیس کی بھاری نفری نے ان شام کو شائع ہونے والے ان اخبارات کے دفتر پر چھاپہ مار اور گیارہ افراد کو حراست میں لیے لیا۔ ان اخبارات کے دفاتر کو سیل کرنے کے بعد گرفتار شدگان کے خلاف فحاشی پھیلانے کے الزامات پر مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ صوبائی حکومت کے مشیر صلاح الدین حیدر نے الزام لگایا ہے کہ ان اخبارات میں اخلاق سے گری ہوئی تصاویر شائع ہوئیں تھیں جو کہ تعزیراتِ پاکستان کے تحت جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اخبارات کو کئی مرتبہ خبردار کیا گیا تھا کہ وہ فحاشی اور عریانی پھیلانے سے باز رہیں۔ انہوں نے کہ حکومت کے پاس ان اخبارات کو بند کرنے کے سواء کو چارہ نہیں رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان اخبارات کے مالکان کو اب تحریری طور پر یہ یقین دہانی کرانی ہو گی کہ وہ مستقبل میں اس طرح کی تصاویر شائع نہیں کریں گے اور اس کے بعد ہی ان کو اخبارات شائع کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ جن اخبارات کو بند کیا گیا ہے ان میں ایوننگ اسپییشل، مارننگ اسپیشل ، ڈیلی اسپیشل، پبلک ایوننگ، زمانہ اور مڈ اسپیشل شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ اخبارات پر دو سال قبل بھی پابندی عائد کی گئی تھی لیکن قومی اخبارات کے مدیران کی تنظیم اے پی این ایس کی مداخلت پر اس پابندی کو اٹھالیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||