ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 |  زبیدہ بیگم دیر میں عورت فاونڈیشن کے لیے کام کرتی تھیں۔ |
صوبہ سرحد کے علاقے دیر میں پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک خاتون اور اس کی بیٹی کو مبینہ طور پر حقوق نِسواں کی ایک غیرسرکاری تنظیم کے لیے کام کرنے کی پاداش میں قتل کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ قدامت پسند سمجھے جانے والے دیر بالا کے ضلع کی پولیس کے سربراہ محمد ایوب نے جمعرات کو ایک اخباری کانفرنس کو بتایا کہ علی زیر نامی شخص کو زبیدہ بیگم اور ان کی بیٹی شمائیلہ کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ زبیدہ بیگم دیر میں عورت فاونڈیشن کے لیے کام کرتی تھیں۔ یہ علاقہ مذہبی پارٹی جماعت اسلامی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ انہیں گزشتہ جمعہ ان کے گھر میں قتل کیا گیا تھا۔ اس وقت ہلاکت کی وجہ واضع نہیں تھی کہ اس کے پس منظر میں جائیداد کا مسئلہ تھا یا حقوق نِسواں کے لیےآواز اٹھانے کا۔ اب پولیس کی جانب سے ایک ملزم کی گرفتاری کے بعد صورتحال قدرے واضع ہوگئی ہے۔ ڈی سی او دیر محمد ایوب کا کہنا تھا کہ اس قتل کی واردات میں پانچ افراد ملوث ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بقول علی اسے اس قتل پر مسجد میں ایک شخص نے اکسایا تھا۔ علی کے کہنے کہ مطابق اسے بےغیرتی کا طعنہ دیا گیا تھا۔ چالیس سالہ زبیدہ کو ایک درجن سے زائد گولیاں لگیں اور وہ موقعہ پر ہلاک ہوگئی جبکہ اس کی سترا سالہ بیٹی سوموار کو پشاور میں ہسپتال میں دم توڑ گئی۔ پولیس نے حملہ آورں کی گاڑی بھی برآمد کر لی ہے۔ |