دورانِ زچگی ہر اڑتیسویں پاکستانی عورت ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں دوران زچگی ہونے والی اسی فیصد خواتین کی اموات کی وجہ غربت، صحت کی خرابی اور جنسی بنیادوں پر کی جانے والی تقسیم ہے۔ زچہ و بچہ سے متعلق پاکستان کی قومی صحت کمیٹی کی صدر صادقہ جعفری کا اس بارے میں کہنا ہے کہ پاکستان میں زچگی اور دوران حمل خواتین کے لیے باقاعدہ طریقہ کار سے ناواقفیت اور غیرصحتمندانہ رجحانات ماں اور نو مولود بچے کی صحت کے لیے خطرے کا باعث بنتے ہیں۔ زچگی اور دوران حمل ہونے والی غفلت سے پاکستان میں کئی ہزار خواتین ماں بننے کے عمل کے دوران کسی نہ کسی طرح کی مستقل یا عارضی معذوری کا شکار ہو رہی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کے حساب سے اگر دیکھا جائے تو ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں زچگی کے دوران ہر اڑتیس خواتین میں سے ایک دوران حمل موت کا شکار ہو جاتی ہے۔ جبکہ سری لنکا میں یہی تناسب ہر دو سو تیس خواتین میں سے ایک کی موت ہے۔ اس کے برعکس ترقی یافتہ ممالک میں یہ تناسب برطانیہ میں دوران حمل پانچ ہزار ایک سو زچہ خواتین میں سے ایک کی موت بتایا جاتا ہے اور سویڈن میں چھ ہزار زچہ خواتین میں سے ایک دوران حمل اپنی جان سے جاتی ہے۔ پاکستان میں جنم لینے والے پچیس فیصد بچے ولادت کے حساب سے وزن کے مقابلے میں کمزور ہوتے ہیں جب کہ ان کا وزن دو اعشاریہ پانچ کلو گرام سے بھی کم ہوتا ہے۔ ہر سال پاکستان میں چار سے پانچ لاکھ نومولود صرف اسی لیے یا تو مردہ جنم لیتے ہیں یا پھر ولادت کے پہلے ہفتے میں اس لیے ان کی اموات واقع ہو جاتی ہیں کہ ان کی ماؤں نے دوران زچگی اپنی صحت کی باقاعدہ نگہداشت نہیں کی ہوتی۔ ڈاکٹر صادقہ کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے ملک میں زچہ خواتین کی نگہداشت سے متعلق باقاعدہ ہیلتھ ورکرز کی تربیت کا انتظام کیا جائے تاکہ وہ نہ صرف طبی امداد فراہم کر سکیں بلکہ دوران زچگی ماں اور بچے کی نشوونما کے لیے ضروری عناصر سے خواتین کو باخبر بھی کر سکیں۔ مختلف رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں صرف تیس فیصد خواتین دوران زچگی اپنا مکمل خیال رکھ پاتی ہیں جبکہ پچپن فیصد جسم میں خون کی کمی کا شکار رہتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||