کیا آپ نے کبھی سوچا کہ عورت اپنے آپ کو کتنا محفوظ سمجھتی ہے؟ گھر سے باہر قدم نکالتے ہی بلکہ بعض اوقات تو چادر اور چار دیواری کے اندر ہی اسے جنسی ہراس کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کیا معاشرہ یہ حقیقت تسلیم کرتا ہے؟ عورت کا احتجاج اتنا بے زبان کیوں ہے؟ اسے کس نے بے زبان کیا ہے؟ اور اسے غیر محفوظ کرنے والے کون ہیں؟ لوگ اس موضوع پر بات کرنے سے کیوں گریز کرتے ہیں؟ کیا وہ کسی سچ کے سامنے آنے سے ڈرتے ہیں؟ کیا وہ اس وقت سے ڈرتے ہیں جب عورت کی خاموشی کا پیمانہ لبریز ہوجائے گا؟ ایسے ہی ان گنت سوالوں کا جواب آپ کو مل سکے گا ایک نئے سلسلے میں جس کا نام ہے ’عورت خوف کے پہرے میں‘ اور یہ سلسلہ پاکستانی معاشر ے میں عورت کے خلاف جنسی ہراس کے موضوع کے گرد گھومتا ہے۔ اس میں کوشش کی گئی ہے کہ مسئلے کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کی نادیہ اسجد نے پاکستان کے مختلف شہروں کے سفر کے دوران خواتین کے ساتھ پیش آنے والے ایسے بے شمار واقعات کا پردہ چاک کیا ہے جو معاشرے کی پست حالی کی عکاسی کرتے ہیں۔ آئندہ پیر سے شروع کیا جانے والا یہ سلسلہ کئی ہفتوں تک جاری رہے گا۔ | |   | | تازہ ترین خبریں | |
|