حسبہ بل پر کابینہ کی منظوری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرحد کی صوبائی کابینہ نے پیر کی شام ایک اجلاس میں مجوزہ حسبہ بل کی اصولی منظوری دے دی ہے۔ تاہم صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ اسے اسمبلی میں پیش کرنے سے قبل حزب اختلاف کے رہنما اور دیگر اراکین سے بھی مشورہ کیا جائے گا۔ پیر کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق کابینہ نے فیصلہ کیا کہ اس بل سے متعلق غلط تاثر کو ختم کرنے کی غرض سے اسے اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے حزب اختلاف کے رہنما شہزادہ گستاسپ خان اور دیگر اراکین اسمبلی کی رائے لی جائے گی۔ کابینہ کے مطابق مجوزہ بل کے نتیجے میں قائم ہونے والا حِسبہ ادارہ عدالتی نظام کا متوازی کوئی نظام نہیں ہے۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں وزیر اعلی نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ ان کی کوشش ہے کہ بل کو قانونی شکل دینے سے قبل اس کے بارے میں تمام خدشات دور کئے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسمبلی میں اس بل پر بحث کی پوری اجازت ہوگی۔ اکرام خان درانی نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس ادارے کے قیام سے معاشرے سے بدعنوانی اور زیادتیوں کا خاتمہ ہوگا۔ متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت کی مجوزہ حِسبہ بل کو ایک مرتبہ پھر سرحد اسمبلی سے منظور کرانے کی کوشش بظاہر آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے۔ کافی کڑی تنقید اور مخالفت کا سامنا کرنے کے بعد، اسے دوبارہ چند ترامیم کے ساتھ عوامی بحث کے لئے سامنے لایا جا رہا ہے۔ چھ دینی جماعتوں کے اتحاد کی مرکزی قیادت پہلے ہی اس بل کی نئی شکل کی منظوری دے چکی ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس بل کے ذریعے ایک ایسے ادارے کا قیام عمل میں آئے گا جس سے معاشرے کو اسلامی اقدار کے مطابق ڈھالنے میں مدد ملے گی۔ تاہم اس کے مخالفین اسے طالبان کی امر بالمعروف اور نہی منکر جیسی فورس تیار کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ اخبارات میں شائع شدہ رپورٹوں کے مطابق مجوزہ بل کی رو سے قائم کئے گئے محتسب کی جانب سے کسی مسئلہ پر کارروائی کے خلاف عدالتوں کو مداخلت کا اختیار نہیں ہوگا۔ یہ عدالتیں محتسب کے زیر غور کیس میں حکم امتناعی یا عارضی مدد نہیں دے سکیں گی۔ اخبارات کے مطابق ایم ایم اے نے بل کی متنازعہ شقوں کو تبدیل نہیں کیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||