BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حسبہ قانون کو روکا جا سکتا ہے‘

حسبہ بل
ایم ایم اے کی حکومت حسبہ بل کا نفاذ چاہتی ہے
پاکستان کی وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات انیسہ زیب طاہر خیلی کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد کی حکومت کی طرف سے صوبے میں حسبہ قانون کے نفاذ کو روکنے کے لیے وفاقی حکومت کے پاس کئی طریقے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون آئین کے متصادم ہے اور وفاقی حکومت کسی بھی صورت سرحد میں طالبان طرز حکومت رائج کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

بی بی سی اردو سروس سے ایک انٹرویو میں وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات نے کہا کہ حسبہ قانون سے سرحد کا حکمران اتحاد لوگوں کو دہشت زدہ کر کے اپنے تابع اور زیر رسوخ لانا چاہ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت صوبائی محتسب کو لا محدود اختیارات تفویض کئے گئے ہیں جس سے متوازی نظام عدل قائم ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ محتسب کی تعیناتی میں وزیر اعلیٰ کے احکامات کو لازمی قرار دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سیاسی عہدہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ محتسب کے اختیارات کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہ کیے جانے کی جو شق اس مجوزہ قانون میں رکھی گئی ہے وہ خلاف آئین ہے اور عدالتی نظام سے متصادم ہے۔

انہوں نے مذید کہا کہ اس قانون میں خواتین کو تحفظ دینے کی بات کی گئی ہے مگر اس قانون میں کسی بھی سطح پر خواتین سے مشاورت نہیں کی گئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس قانون کو بناتے وقت بہت سی بنیادی چیزوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مجوزہ قانون کے تحت جو حسبہ فورس بنائی جائے گی اس کے بارے میں واضح نہیں ہے کہ وہ کس کے ماتحت ہو گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی حکومت اس سلسلے میں کچھ کرنے سے پہلے اس معاملے کو صوبائی سطح پر سلجھانے کی کوشش کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے اس بل پر جو اعتراضات کئے تھے ان کو سرحد حکومت نے دور نہیں کیا ہے۔

انیسہ زیب طاہر خیلی نے کہا کہ اس بل کو عوامی بحث کے لیے بھی پیش نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سرحد حکومت اس بل کو بلڈوز کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 143میں یہ صاف طور پر لکھا ہوا ہے کہ وفاقی قوانین کو صوبائی قوانین پر سبقت حاصل ہے۔

وفاقی وزیر کا یہ بھی دعوی ہے کہ اس بل سے ایک نیا ’پنڈورہ بکس‘ کھلے گا اور اس سے فرقہ واریت فروغ پائے گی۔

وفاقی حکومت کے علاوہ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے جن میں حکمران مسلم لیگ، پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز اور عوامی نیشنل پارٹی شامل ہیں، اس بل کی مخالفت کی ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس قانون سے صوبہ سرحد میں طالبان طرز حکومت قائم ہو جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد