BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 July, 2004, 13:32 GMT 18:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد: نماز کےوقت کاروبار بند

حسبہ بِل کا بینر
صوبہ سرحد میں دینی جماعتوں کے اتحاد کی حکومت نے نجی اور سرکاری کاروباری مراکز میں اوقاتِ نماز کے دوران رضاکارانہ طور پر کاروبار بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سلسلے میں تمام صوبے میں اذان اور نماز کا ایک وقت مقرر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

پشاور میں آج ایک تقریب میں، جس میں صوبائی وزراء اور علماء کے علاوہ تمام اضلاع کے پولیس افسران اور تاجر برادری کے نمائندے شریک ہوئے، اس نظام کا اعلان کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ سرحد اکرم خان درانی نے صوبے کی عوام سے اوقاتِ نماز کے دوران کاروبار بند کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے اس موقع پر ایسے پلازے گرانے کی بھی دھمکی دی جن میں مساجد تعمیر نہیں کی گئی ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ سعودی ماڈل کا یہ نظام رضاکارانہ ہوگا۔ البتہ یہ کب سے نافذ العمل ہوگا اس بارے میں کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اذان اور نماز کے ایک اوقات کا تعین علماء اور اعلیٰ حکام کریں گے۔

وزیر اعلیٰ نے مجوزہ حسبہ بل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس کو بھی ان کی حکومت جلد نافذ کرے گی۔

صوبائی چیف سیکریٹری اعجاز قریشی سے اس فیصلے کے نفاذ کے طریق کار کی بابت سوال پر انہوں نے کہا کہ ان کے سننے میں یہ آیا ہے کہ وہ اب اس پر اجلاس منعقد کریں گے کہ کس طرح مشورے سے اسے نافذ کیا جائے۔ البتہ انہوں نے اس میں زبردستی کے عنصر کی نفی کی۔ ’ہماری کوشش ہوگی کہ باہمی مشورے اور لوگوں کو اس جانب راغب کر کے اسے نافذ کیا جائے۔‘

تاجر برادری نے اس موقع پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت میں نماز کے اہتمام کا خیرمقدم کیا ہے لیکن چند تجاویز بھی پیش کی ہیں۔

مرکزی انجمن تاجران کے صدر حاجی محمد حلیم جان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس سلسلے میں اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کرنا ہوگا۔ ’ایک تو اسے تمام مکاتب فکر کے لوگوں کو ایک وقت ایک اذان اور نماز پر راضی کرنا ہوگا اور دوسرا اس میں دوکان بند کرنا ضروری نہیں ہونا چاہیے بلکہ اگر ایک آدمی چادر ڈال کر نماز کے لیے چلا جائے تو وہ بھی درست ہونا چاہئے۔‘

اس نظام صلوٰۃ کے لیے کسی وقت کا تعین نہیں کیا گیا کہ اس پر کب سے عمل درآمد شروع ہوگا لیکن وزیر اعلیٰ نے حکام کو جلد ایک نظام الوقات تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔

ایم ایم اے کی حکومت حالیہ دنوں میں پہلے ہی اپنے مجوزہ حسبہ بل کے ناقدین کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہے۔ اس تازہ فیصلے سے ایک نئی بحث چھڑ جانے کا خدشہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد