BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 June, 2004, 18:00 GMT 23:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میں سازشی نہیں ہوں: مشرف

 جمالی مشرف
’وزیراعظم کی تبدیلی مسلم لیگ کا فیصلہ ہے کیونکہ وہ تبدیلی چاہتی تھی‘
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ وہ سازشی نہیں ہیں اور سازش پر یقین بھی نہیں رکھتے اور اگر کسی کے خلاف انہیں کچھ کہنا ہوتا ہے وہ سامنے کہتے ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کی شب ایوان صدر میں اخبار نویسوں کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اراکین اسمبلی سے مل کر انہوں نے سابق وزیراعظم کے خلاف کوئی سازش نہیں کی۔

تاہم صدر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی تبدیلی مسلم لیگ کا فیصلہ ہے کیونکہ وہ تبدیلی چاہتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جب اراکین اسمبلی سے ملاقاتیں کیں تو ان کی آنکھیں کھل گئیں۔

صدر کا کہنا تھا کہ وہ تو جمالی صاحب کو جانتے ہی نہیں تھے ، ’ان کی وزیراعظم کے طور پر نامزدگی مسلم لیگ کا فیصلہ تھا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جمہوریت کے قائل ہیں اور فوج میں بھی جمہوری طریقے سے مشاورت کے بعد فیصلے کرتے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم ظفراللہ جمالی پر مستعفی ہونے کے لیے کوئی دباؤ نہیں تھا ۔ ان کے بقول انہوں نے ( جمالی ) استعفیٰ دے کر سمجھداری کے ساتھ نئی روایت قائم کی ہے۔ صدر نے سوال کیا کہ ’ کیا جب جمالی صاحب استعفیے کا اعلان کر رہے تھے اس وقت وہ دباؤ میں لگ رہے تھے؟

صدر نے صحافیوں سے کہا کہ وہ سابق وزیراعظم کے استعفے کی باریک بینیوں میں نہ پڑیں ۔ انہوں نے مخدوم امین فہیم اور مولانا فضل رحمٰن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلم لیگ کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں اور اپنی جماعتوں کو ٹھیک سے چلائیں۔

صدر مشرف نے کہا ’کیا سابق وزیراعظم کمزور نظر آتے ہیں ؟‘ ان کے بقول جمالی سے کوئی زبردستی نہیں کرسکتا اور انہوں نے خود شجاعت کو نامزد کیا ہے اور ووٹ بھی دیا ہے ۔

شوکت عزیز کے متعلق ان کی رائے تھی کہ وہ ذہین آدمی ہیں اور لوگوں سے نمٹنا جانتے ہیں اور وہ سیاست کو سمجھ لیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ شوکت عزیز کو چودھری شجاعت نے خود نامزد کیا ہے ، کیونکہ وزیر اعظم کے طور پر خرابی صحت کی وجہ سے وہ ( شجاعت) طویل عرصے تک ملکی معاملات نہیں چلا سکتے۔

صدر کا کہنا تھا کہ بھارت میں سابق وزیر خزانہ کو وزیراعظم بنایا گیا ہے تو پاکستان میں وزیر خزانہ کو کیوں وزیراعظم نہیں بنایا جا سکتا؟

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ بہترگورننس یعنی حکمرانی اور سیاسی کلچر کو آگے لے جانے کے لیے تبدیلی ضروری تھی۔

بھارت سے مذاکرات کے بارے میں صدر کی رائے تھی کہ وہ خارجہ سیکریٹریز کی ملاقات سے بہت پرامید ہیں اور ابھی وزراء خارجہ کی ملاقات ہونی ہے ۔ وہ کہہ رہے تھے کہ دیکھنا یہ ہوگا کہ کشمیر کے معاملے پر کس حد تک دونوں ممالک آگے جاتے ہیں۔

جوہری اور میزائیل پروگرام رول بیک کرنے کے بارے میں سوال پر صدر مشرف کا کہنا تھا کہ کوئی پاگل ہی ایسی باتیں کرسکتا ہے ۔ کیونکہ ان کے بقول ’ہم روز تجربے کرتے ہیں اوربہت کچھ ہورہا ہے اور دو اڑہائی ماہ میں پاکستان میں ایک زبردست تجربہ کیا جائے گا‘۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد