چودھری شجاعت، قائدِ ایوان منتخب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی میں متحدہ مسلم لیگ کے امیدوار چودھری شجاعت حسین 190 ووٹ لے کر نئے قائد ایوان منتخب ہوگئے ہیں۔ان کے مدِ مقابل اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے امیدوار مخدوم امیں فہیم کو76 ووٹ ملے۔ متحدہ مجلس عمل نے کسی امیدوار کو ووٹ نہیں ڈالا اور ایوان میں اپنی نشستوں پر ہی بیٹھے رہے۔ تلاوت کے بعد جیسے ہی سپیکر چودھری امیر حسین نے کاروائی چلانا چاہی تو مخدوم امین فہیم نکتہ اعتراض پر کھڑے ہوگئے اور انہوں نے اعتراض اٹھایا کہ ابھی انتخاب ہوا ہی نہیں اور چودھری شجاعت حسین کو انہوں نے قائد ایوان کی کرسی پر کیوں بٹھایا ہے ۔ جس پر سپیکر کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم ہے کہ چودھری شجاعت کی ایوان میں اکثریت ہے اس لئے انہوں نے یہ کرسی انہیں دی ہے۔ جس پر حزب اختلاف کے تمام اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور احتجاج کرنا شروع کردیا ۔ احتجاج میں متحدہ مجلس عمل کے رہنما اور تمام اراکین نے بھی حصہ لیا۔ سابق وزیراعظم ظفراللہ جمالی جو گذشتہ جمعہ تک قائد ایوان کی کرسی پر بیٹھتے تھے وہ ایک عام رکن اسمبلی کی طرح بیٹھے ہوئے تھے۔ تاہم انہیں نشست قائد ایوان کے ساتھ فراہم کی گئی تھی۔ حزب اختلاف کے اراکین نے مخدوم جاوید ہاشمی کو ایوان میں نہ لانے کے خلاف بھرپور نعرہ بازی کی ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||