’سرکاری افسروں پر مجرے ممنوع‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد میں دینی جماعتوں کے اتحاد کی حکومت نے صوبائی حکومت کے ملازمین پر موسیقی اور عورتوں کے رقص والی تقریبات میں شرکت پر پابندی لگا دی ہے۔ سرحد حکومت کے اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے گزشتہ دنوں یہ حکم نامہ جاری ہوا ہے۔ اس حکم نامے کے ذریعے انیسو تہتر کے سرحد سول سرونٹس ایکٹ میں ترمیم کی گئی ہے اور صوبائی حکومت کے ملازمین کے لئے یہ نئی پابندی ان کے لئے متعین ضابطہ اخلاق میں شامل کی گئی ہے۔ اس کے تحت تمام ملازمین کے کسی ایسی تقریب یا اجلاس میں شرکت پر پابندی ہوگی جو’ اسلامی اقدار کے منافی ہوں‘ یا جہاں ان اقدار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے موسیقی یا عورتوں کے رقص کا انتظام ہو۔ البتہ اس حکم میں یہ ذکر نہیں کہ آیا یہ ملازمین شادی بیاہ کی تقریبات میں شریک ہوسکتے ہیں یا نہیں جہاں عموماً روایتی طور پر موسیقی بھی ہوتی ہے اور ناچ گانا بھی۔ حکومت نے پہلے ہی عوامی سطح پر موسیقی کے پروگراموں اور سٹیج ڈراموں پر پابندی لگا رکھی ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے وہ صوبائی حکومت کے ملازمین کو غیراسلامی سرگرمیوں سے دور رکھنا چاہتی ہے۔ ایم ایم اے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔ گزشتہ برس صوبائی ملازمین کے لئے دفتری اوقات کے دوران نماز قائم کرنے کا بھی ایک حکم نامہ جاری ہوا تھا۔ بعض مذہبی رہنما موسیقی اور رقص کو غیراسلامی قرار دیتے ہیں۔ ایم ایم اے کی حکومت صوبے میں اسلامی اقدار پر عمل درآمد کو یقینی بنانے اور عوام کی زندگیوں کو اسلامی رنگ میں ڈھالنے کے لئے ایک متنازعہ حسبہ ادارے کے قیام کی کوششوں میں بھی مصروف ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ قائم کرنا اس کی آئینی ذمہ داری ہے جبکہ مخالفین اسے مولویوں کا مارشل لاء قرار دیتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||