کراچی میں ایم ایم اے کا احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں جماعت اسلامی کے نائب امیر اسلم مجاہد کے قتل اور گوانتاناموبےمیں قرآن پاک کی بی حرمتی کے خلاف کراچی میں ایم ایم اے کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ متحدہ مجلس عمل کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کراچی میں قتل و غارت گری کے منصوبے گورنر ہاؤس میں تیار کیے جاتے ہیں۔ اس گورنر اور حکومت کو فی الفور برطرف کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ بالخصوص کراچی کو ایک بار پھر ہدف بنایا جارہا ہے جو ملکی وحدت اور قومی اسمبلی کے لیے مہلک ہے۔ اس مظاہرے سے علامہ حسن ترابی اور حافظ تقی نے بھی خطاب کیا۔ مظاہرین نے پلی کارڈ اٹھائے رکھے تھے جن پر حکومت اور ایم کیو ایم کے خلاف نعرے درج تھے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی مشینری کے ذریعے بلدیاتی اداروں اور ان کے وسائل پر قبضے کی کوشش قابل مذمت ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ اسلم مجاہد اور جمال طاہر کی شہادت کے باوجود جدوجہد جاری رہیگی۔ واضح رہے کہ ایم ایم اے نےملک میں دہشت گردی کے مختلف واقعات ، جماعت اسلامی کراچی کے رہنما اسلم مجاہد کے قتل اور گوانتانامو میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن کی بے حرمتی کے خلاف جمعہ کے روز ملک بھر احتجاج کی اپیل کی تھی۔
جماعت اسلامی کے امیر اور متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے اسلم مجاہد کے جنازے کے موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ مزار حضرت امام بری اور مدینۃ العلم میں خودکش حملے اور کے ایف سی کو نذرِ آتش کرنے کے خلاف ایک سماجی تنظیم کی جانب سے بھوک ہڑتال کی گئی۔ جن کا مطالبہ تھا کہ صدر پاکستان چیف جسٹس سندھ اور وزیر داخلہ دہشتگردی پھیلانے والوں کو بی نقاب کر کے سرعام پھانسی دیں۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ بھی کیا کہ ’ کے ایف سی‘ میں چھ افراد کو زندہ جلانے والوں کے خلاف قتل کیس درج کیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||