ہلاک ہونے والوں کےلئےمعاوضہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ حکومت نے کراچی میں کے ایف سی ریسٹورنٹ میں جھلس کر ہلاک ہونے والے چھ ملازمین کے لواحقین کے لیے تین تین لاکھ روپئے معاوضےکا اعلان کیا ہے۔ پیر کے روز امام بارگاہ مدینتہ العلم میں خودکش حملے کے بعد مشتعل لوگوں نے کے ایف سی ریسٹورنٹ کو آگ لگا دی تھی۔ جس میں چھ ملازمین جھلس کر ہلاک ہوگئے تھے۔ سندھ کے وزیر داخلہ رؤف صدیقی نے حکومت کی جانب سے اعلان کیا کہ کراچی میں حالیہ ہنگاموں میں زخمی ہونے والے افراد کو فی فرد 81 ہزار روپئے دیئے جائینگے۔ دوسری جانب کے ایف سی کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جس میں کے ایف سی کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔اس سے قبل پچھلے برسوں میں پانچ مرتبہ حملے کیے گئے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ موجودہ حملے کےبعد ہونے والے نقصان کی مرمت تو کرلی جائے گی لیکن اصل نقصان چھ ساتھیوں کی زندگیوں کا ہے جس کی تلافی نہیں کی جاسکتی۔ کے ایف سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خودکش بم حملے کے پانچ منٹ بعد مشتعل لوگ ہمارے دروازے پر تھے۔ہم نے اپنے گراؤنڈ فلور کے شٹر بند کردیا تھا۔مگر مشتعل لوگوں نے شٹر توڑ کر مٹی کا تیل چھڑکنے کے بعد آگ لگادی۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ کے ایف سی کی منصوعات کے حقوق عالمی کمپنی کے ہیں لیکن یہ مکمل پاکستانی کمپنی ہے۔ دوسری جانب امام بارگاہ مدینتہ العلم پر خودکش حملے کی کوشش میں گرفتار ہونے والے زخمی ملزم تحسین کا آج انویسٹیگیشن پولیس نے انسداد دہشتگردی کی عدالت سے آٹھ جون تک کا ریمانڈ لیا ہے۔ پولیس آفیسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم زخمی ہونے کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکا ہے۔ امام بارگاہ میں خود کو بم سے اڑانے والے دہشتگرد کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ ایس پی انویسٹگیشن نیاز کھوسہ کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص غالباً پنجاب کا رہائشی ہے ایور ہم نے اس کی تصاویر پنجاب پولیس کو بھیج کر تفصیلات طلب کی ہیں۔ نیاز کھوسہ کا کہنا تھا کہ کیس کی تحقیقات میں سی آئی ڈی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ جبکہ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ بمبار کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے اس ضمن میں پولیس ٹیم بھیجی گئیں ہیں اور کچھ گرفتاریوں کا امکان ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||