BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 October, 2005, 02:19 GMT 07:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
'بھارت کے ہاتھوں کھیلنے والی بات'
منور حسن
'صحیح بات تو یہ ہے کہ بھارت پاکستان کی کوئی مدد نہیں کر سکتا'
جماعت اسلامی کے رہنما منور حسن نے ایل او سی کھولنے کے بارے میں پیشکش پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آنے والے زلزلے کو بھارت امریکہ اور اسرائیل اپنے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

بھارت کا کہنا ہے کہ وہ ہیلی کاپٹر اپنے پائلٹوں کے بغیر نہیں دے گا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے یہ 'کہنے کی جسارت' کی یہ بہت حساس علاقے ہیں جہاں وہ بھارت کے لوگوں کو نہیں آنے دینا چاہتے۔

بھارت کیا کر سکتا ہے؟
 زلزلے سے متاثرہ علاقے میں جانے کے تو حالات ہی نہیں ہیں۔ نہ وہاں سڑکیں ہیں نہ پٹرول پمپ اور نہ ہی ٹیلیفون لائن
منور حسن
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو معلوم ہے کہ حساس کیا ہوتا اور بھارت کو نہ آنے دینے کا مطلب ہے کہ اسے دشمن سمجھتے ہیں۔ اب ایل او سی کے پار سے لوگوں کو اس طرف آنے کی اجازت دینا دراندازی کا موقع فراہم کرنے والی بات ہے۔

جماعت اسلامی کہ رہنما نے کہا کہ یہاں تو ابھی سربجیت کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد نہیں ہو سکا اور ایل او سی کھولنا سینکڑوں ہزاروں سربجیتوں کو یہاں آنے کا موقع دینے والی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک آزمائش کا شکار ہے اور اس کے دشمن اس موقع کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

منور حسن نے کہا کہ بظاہر تو پاکستان کی پیشکش بہت خوبصورت لگتی ہے لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ بھارت نے اپنے جاسوسوں اور دراندازوں کو پاکستان میں داخل کرنے کا کبھی کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔

انہوں نے کہا 'جنرل صاحب' کی پیشکش بھارت کے ہاتھوں میں کھیلنے والی بات ہے۔

منور حسن نے کہا کہ اگر ہم دوست اور دشمن میں تمیز اٹھا دیں گے تو دشمن کے لیے ترنوالہ بن جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 'صحیح بات تو یہ ہے کہ بھارت ہماری کوئی مددنہیں کر سکتا امریکہ نے بھی کوئی مدد نہیں کی ہے۔ اسے دو سو ہیلی کاپٹر بھیجنے چاہیے تھے۔ اسے مشینیں دینی چاہیے تھیں۔ اس وقت بھی ملبے کے نیچے ہزاروں لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔'

ان سے پوچھا گیا کہ اجازت صرف اس بات کی ہو گی کہ ایل او سی کے اس پار سے لوگ آ کر اپنے عزیز و اقارب کی مدد کر سکیں۔ منور حسن نے کہا کہ یہ کام تو ابھی مانسہر کے لوگ نہیں کر سکے ہیں۔

'زلزلے سے متاثرہ علاقے میں جانے کے تو حالات ہی نہیں ہیں۔ نہ وہاں سڑکیں ہیں نہ پٹرول پمپ اور نہ ہی ٹیلیفون لائن'۔

بھارت کے ساتھ دوستی کے عمل کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ سب غلط ہے کیونکہ بھارت نے کشمیر میں زیادتیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد