کیا خیمے پناہ دے سکتے ہیں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اس وقت ہر طرف خیمہ خیمہ کی پکار ہے۔ زلزلہ سے بے گھر ہونے والوں کے لیے خیمہ بستیاں بسانے کی باتیں ہورہی ہیں۔ لیکن کیا یہ خیمہ بستیاں اس مشکل صورتحال کا صحیح حل ہیں؟ پاکستانی ذرائع ابلاغ اور پریس کی خبروں اور زلزلہ مدگان کی امداد کے اشتہاروں میں ایک بات پر زور ہے اور وہ متاثرین کے لیے خیموں کی ضرورت کیونکہ ان علاقوں میں دو تین ہفتے تک برف باری شروع ہوجائے گی۔ اس وقت بھی خاصی سردی پڑ رہی ہے اور درجہ حرارت کم ہوتا جا رہا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے منگل کومظفرآباد میں اور بدھ کو بالاکوٹ میں کہا ہے کہ خیموں کی کمی ہے لیکن حکومت نے باہر سے منگوائے ہیں اور دو ہفتوں میں متاثرین کو بڑی تعداد میں خیمے مہیا کردیے جائیں گے۔ اس سے پہلے بالاکوٹ کے دورہ کے موقع پر منگل کو وزیراعظم شوکت عزیز نے متاثرین سے کہا کہ وہ پہاڑوں سے نیچے اتر کر خیمہ بستیوں میں آجائیں جہاں انہیں غذا اور دوائیں بھی دستیاب ہوں گی اور ان کی مناسب دیکھ بھال ہوسکے گی۔ ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق احمد کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد اور آزاد کشمیر کے متاثرین کی خیمے مہیا کرنے کے لیے تمام کارخانوں پر پابندی لگادی گئی ہے کہ وہ خیمے ملک سے باہر برآمد نہیں کرسکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں خیمے بنانے والی تمام سینتیس فیکٹریوں کو کہا گیا ہے کہ وہ صرف زلزلہ متاثرین کو خیمے مہیا کریں کیونکہ سرد موسم کی وجہ سے لوگوں کو ان کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت نے خیموں کی درآمد پر سے ڈیوٹی (ٹیکس) بھی ختم کردی ہے۔ ریلیف کمشنر کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد اور آزاد کشمیر میں متاثرین کو دو لاکھ ساٹھ ہزار خیموں اور بیس لاکھ کمبلوں کی ضرورت ہے جبکہ پنجاب کی فیکٹریاں روزانہ چھ ہزار سے سات ہزار خیمہ بناسکتی ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ چالیس ہزار خیمے باہر کے ملکوں سے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ریلیف کمشنر کے مطابق زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں دو لاکھ مکانات زمین میں دھنس گئے ہیں جنہیں دوبارہ بنانا پڑے گا۔ اقوام متحدہ کے مطابق ملک میں زلزلہ سے بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد تقریبا تیس لاکھ ہے۔ زلزلے سے تباہ ہونے والے مکانوں کی تعداد شاید ریلیف کمشنر کے ابتدائی اندازوں سے زیادہ ہوجائے کیونکہ صوبہ سرحد کی اسمبلی کا کہنا ہے کہ صرف بالاکوٹ کے نو سو دیہات میں سے چھ سو دیہات ایسے ہیں جہاں ابھی امدادی ٹیمیں بالکل پہنچ ہی نہیں سکیں۔ ایبٹ آباد میں حکومتی ایجنیسوں کے مطابق بالاکوٹ سے آگے کاغان وادی میں جانے والے پل کے ٹوٹ جانے کے باعث کاغان اور ناران تک کا علاقہ ابھی امدادی سرگرمیوں کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ ناران کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا اسی فیصد تباہ ہوچکا ہے۔ ناران قصبہ ملک کے ممتاز سیاحتی مقامات میں سے ایک تھا۔ ضلع کوہستان کے علاقوں جیسے تھاکوٹ، بھشام اور الائی وغیرہ میں بھی ابھی بہت جگہوں تک نقصانات زلزلہ آنے کے سات روز بعد فوج نے اپنے خچروں کی مدد سے وادی کاغان میں کچھ امدادی سامان بھیجا جو کہ ظاہر ہے کہ تباہی کے بڑے پیمانے کے دیکھتے ہوئے خاصی کم ہے۔ یہ شکایات بھی مسلسل سامنے آرہی ہیں کہ امدادی سامان حق داروں سے زیادہ آس پاس کے دوسرے لوگ کھینچ کر لے جارہے ہیں۔ مانسہرہ اور بالاکوٹ میں مقامی افراد کا افغان مہاجرین کے ساتھ تناؤ خاصا واضح ہے اور افغان مہاجرین پر لوٹ مار کرنے اور امدادی سامان پر ہاتھ صاف کرنے کے الزامات بڑھتے جارہے ہیں۔ بالاکوٹ میں زرگروں کی دکانیں لوٹی گئیں، گھروں سے قیمتی سامان چرا لیا گیا اور عورتوں کے اعضاء کاٹ کر ان کے زیورات اتارنے کے واقعات بھی سامنے آئے۔ افغان مزدوروں نے زلزلے کے فورا بعد بالاکوٹ میں ملبہ سے زندہ اور مردہ لوگوں کو نکالنے کے لیے ورثا سے مزدوری بھی وصول کی۔ مانسہرہ بازار میں افغان مہاجرین نے بڑی تعداد میں دکانیں خرید لی ہیں۔ ان کے پاس پاکستانی شناختی کارڈز ہیں اور اسی کی دہائی میں بنائی جانے والی ان کی خیمہ بستیاں اب کچے اور پکے مکانوں کے محلوں میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ وزیراعظم شوکت عزیز کے خیمہ بستیوں کے قیام کے منصوبہ میں بھی یہی خطرہ پوشیدہ ہے کہ پہاڑوں سے میدانوں اور وادیوں میں اترنے والے لوگوں کی خیمہ بستیاں جہاں آباد ہوگئیں تو پھر وہ مستقل شکل اختیار سکتی ہیں۔ عام لوگ تو کچھ عرصہ بعد زلزلے کے متاثرین کی خبروں سے تھکاوٹ اور اکتاہٹ کا شکار ہوسکتے ہیں جیسا کہ اکثر ہوتا آیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی تاریخ بھی بتاتی ہے کہ زیادہ سنسنی خیز اور نئی خبریں اپنی طرف اپنی توجہ موڑ لیں گی لیکن ان خیمہ بستیوں کے مکینوں کی مستقل بحالی شاید آگے نہ بڑھ سکے۔ عوام میں زلزلے کے متاثرین کے لیے اس وقت جذباتی اور خیر سگالی کی فضا ہے لیکن جب روز مرہ زندگی کے ٹھوس مفادات ٹکرائیں گے تو یہ بھی غائب ہوسکتی ہے۔ ان خیمہ بستیوں، وادیوں اور قصبوں کے پرانے مکینوں کے درمیان وہ تناؤ پیدا ہوسکتا ہے جو اس وقت مقامی آبادی اور ہزارہ کے لوگوں کے درمیان دیکھا جاسکتا ہے۔ کئی جگہوں پر امداد کی تقسیم کے معاملہ پر یہ ابھی سے موجود ہے۔ بٹل قصبہ اور بجوڑی قصبہ میں رہائشی پہاڑوں سے اتر کر آنے والوں کو بلا ضرورت امدادی سامان لینے پر برا بھلا کہہ رہے تھے اور پہاڑیوں کا کہنا تھا کہ ان تک امداد پہنچ نہیں رہی بلکہ سارا سامان سڑک کے کنارے پر آباد قصبوں کے لوگ لے رہے ہیں۔ مانسہرہ کے ارد گرد کے علاقوں کے دورہ میں دیکھنے میں آیا کہ متوسط آمدن کے اکثر لوگ تو اپنے رشتے داروں کے ہاں ایبٹ آباد، راولپنڈی، لاہور اور دوسرے شہروں میں منتقل ہوچکے ہیں۔ جو کم آمدن کے لوگ وہاں رہ گئے تھے انہیں خیمے نہیں ملے تو انہوں نے لکڑیاں زمین میں گاڑھ کر کپڑوں اور پولیتھین سے عارضی خیمے بنا لیے تھے۔ اگر انہیں کمبل مل جاتے ہیں تو وہ خاصی حد تک سردی سے بچ سکتے ہیں۔ زلزلہ متاثرین کو خیمے مہیا کرنا عارضی طور پر تو درست ہوسکتا ہے لیکن خیمہ بستیاں بسانے میں خدشہ ہے کہ مستقل بحالی اور تعمیر نو کا کام کٹھائی میں پڑ جائے گا جس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وزیراعظم شوکت عزیز ابھی سے کہہ رہے ہیں کہ مکمل بحالی میں دس سال لگ سکتے ہیں۔ درحقیت قیام پاکستان کے وقت مہاجرین کی بحالی کے بعد یہ پاکستان کی تاریخ میں تباہ حال اور بے سر وسامان لوگوں کی بحالی دوسرا بڑا موقع ہے۔ اگر ہزارہ اور کشمیر کے زلزلہ زدہ علاقوں کو دیکھا جائے تو بہت تھوڑی تعداد میں متوسط آمدن کے لوگوں کو چھوڑ کر زیادہ تر لوگ گارے اور بڑے پتھوں کے چھوٹے چھوٹے مکانوں میں رہائش پذیر تھے۔ اگر ان لوگوں کو ان کے مکان دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے ان کی شراکت سے ٹھیکیداروں کو شامل کیے بغیر بہت کم پیسوں میں اور بہت مختصر مدت میں ہوسکتی ہے۔ البتہ اگر بیوروکریسی کے ذریعے روایتی طرز پر تعمیر نو کے کام کے منصوبے بنائے گئے تو نہ صرف اس کام میں پیسے بہت زیادہ خرچ ہوں گے، بہت زیادہ وقت لگے گا بلکہ ٹھیکیداروں کے بنائے ہوئے مکان اتنے ہی پائدار ہوں گے جتنی سکولوں کی وہ عمارتیں جو اس اس زلزلے میں سب سے زیادہ منہدم ہوئیں۔ صوبہ سرحد کی حکومت کے ابتدائی اندازوں کے مطابق صوبہ میں آٹھ ہزار سرکاری اور نجی اسکول زلزلہ سے منہدم ہوئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||