BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 October, 2005, 09:48 GMT 14:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شجاعت کا عطیہ، 'لنڈے کے کپڑے'

فلیٹوں کے باہر کشمیری بچے
بچوں کا کہنا تھا کہ ان کو یہ کپڑے پسند نہیں ہیں۔ انہوں نے ہنس کے کہا کہ یہ لنڈا بازار ہے

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں زلزلے کے باعث ہزاروں خاندان پاکستان کے مختلف شہروں میں منتقل ہوگئے ہیں۔

یہ خاندان یا تو اپنے طور پر رہ رہے ہیں یا حکومت کی طرف سے قائم چند خیمہ بستیوں میں رہائش پذیر ہیں یا وہ اسلام آباد میں کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تعمیر کیے گئے فلیٹس میں رہتے ہیں ۔یہ فلیٹس اسلام آباد میں آبپارہ میں واقع ہیں ۔

ایسے ہی ایک مقام پر بہت سے بچے ڈھیر میں سے کپڑے تلاش کر رہے تھے۔ ایک بچی نے کہا کہ اس کو کچھ نہیں ملا۔ ایک بچہ ہنستےہوئے بولا کہ اس کو ایک جیکٹ مل گئی لیکن وہ اسے چھوٹی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کو یہ کپڑے پسند نہیں ہیں اور یہ سارے بچے کھلکھلاتے ہوئے بیک آواز بولے کہ یہ لنڈا بازار ہے۔

بڑی خوبصورتی سے پیک کپڑے پھٹے پرانے نکلے

ایک فلیٹ میں مقیم مظفرآباد کے رہائشی ہلال پیرزادہ کا کہنا ہے کہ یہ کپڑے پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے بھیجے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بڑی خوبصورتی سے پیک کیے گئے تھے لیکن جب ان کو کھولا گیا تو اندر سے پھٹے پرانے کپڑے نکلے جو بالکل ناکارہ اور ناقابل استعمال تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ کشمیری اس مشکل حالات میں بھی اس سے کئی بہتر چیزیں عطیے میں دے سکتے ہیں۔

لگ بھگ تین سو فلیٹس میں کچھ دنوں سے مقیم چھ سات سو خاندان خاصی مشکل زندگی گذار رہے ہیں۔

ایک فلیٹ میں مقیم مظفرآباد کی خاتون نبیلہ حبیب کا کہنا ہے کہ ان کے تین خاندان دو کمروں کے فلیٹ میں رہتے ہیں اور گزر اوقات کر رہے ہیں۔ یہ زندگی نہیں ہے۔ 'کہاں اپنا گھر اور گھر کا آرام اور کہاں یہ'۔

انہوں نے جذباتی ہو کر کہا کہ ان کے پرانے گھر کا سٹور ان کمروں سے بہتر تھا جس میں وہ اب سوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم دوسروں کے محتاج ہوگئے ہیں کہ وہ کھانا لائیں گے اور ہم کھائیں گے جب ہمیں شاپر میں پیک کرکے کھانا دیا جاتا ہے تو بہت دکھ ہوتا ہے پہلے ہم روتے ہیں پھر کھاتے ہیں۔ ہماری عزت نفس مجروح ہورہی ہے ۔ہمیں ساری رات نیند نہیں آتی ہے ہمیں کوئی سکون نہیں ہے'۔

 ایک فلیٹ میں مقیم مظفرآباد کی خاتون نبیلہ حبیب کا کہنا ہے کہ ان کے تین خاندان دو کمروں کے فلیٹ میں رہتے ہیں اور گزر اوقات کر رہے ہیں۔ یہ زندگی نہیں ہے۔' کہاں اپنا گھر اور گھر کا آرام اور کہاں یہ'۔

انہوں نے کہا کہ وہ پیر کو بچوں کی کچھ چیزیں خریدنے کے لیے بازار گئی تو وہاں دوکانیں دیکھ کر انہیں اس لیے رونا آرہا تھا کہ کبھی وہ بھی ایسی ہی دوکانوں کے مالک تھے۔

نبیلہ کا کہنا تھا کہ یہاں کے لوگوں نے ان کی بہت مدد کی لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ 'ہم اپنے شہر میں عزت سے اور ٹھاٹھ سے رہتے تھے لیکن ہم یہاں چوروں کی طرح رہ رہے ہیں'۔

ان فلیٹس میں رہنے والے بےگھر کشمیری اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں ۔

آصفہ جو پیشے کے اعتبار سے ایک استاد ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان کے بچے اچھے سکولوں میں پڑھتے تھے لیکن یہاں بچوں کو کوئی سہولت نہیں ہے۔ اب بچوں کا مستقبل کیا ہے، وہ خود گریڈ سولہ کی ملازم ہیں ان کا مستقبل کیا ہے۔ ان کی بہنوں کا کیا مستقبل ہے ۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے وہ سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔

آصفہ تین بچوں کی ماہ ہیں اور ان کا تعلق بھی مظفرآباد سے ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ کب تک وہ اپنے بچوں کو خشک بسکٹ اور ٹھنڈا دودھ دیں گے۔ اس سے بچے بیمار ہوجائیں گے جو آدھے بچے بچ گئے ان کو تو نہ ماریں۔

 متاثرہ بچی
متاثرین کا کہنا ہے کہ ایک دن اپنے گھر واپس جائیں گے

پروفیسر عبدالمجید کا تعلق بھی مظفرآباد سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں ان فلیٹوں میں بجلی، پانی اور گیس میسر نہیں ہے جبکہ یہاں تینوں کے کنکشن پہلے سے ہی موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس کوئی حکومتی اہلکار نہیں آیا البتہ ان کا کہنا تھا کہ ان کے لوگوں نے قومی اسمبلی کے سپیکر سے ملاقات کرکے انہیں اپنی مشکلات سے آگاہ کیا تھا اور انھوں نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ مسائل حل کریں گے لیکن ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔

حکومت نے زلزلے سے متاثرہ علاقے میں امدادی کام شروع کیا ہے لیکن یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ یہ خاندان کتنے عرصے تک مشکلات کا شکار رہیں گے اور کب ان کی معمول کی زندگی بحال ہوگی۔

66مظفرآباد کی نئی پریشانی
مظفرآباد کے لوگ شہر دوبارہ بسانے سے گریزاں
66آنے جانے کی آزادی
ایل او سی پر پیش رفت؟ آپ کیا سوچتے ہیں؟
66نہ جیل بچی نہ قیدی
مظفر آباد کی مرکزی جیل مکمل تباہ ہو گئی۔
66یہ کیسا نظام ہے؟
جو نہ زلزلہ جھیلتا ہے نہ امداد سنبھال پاتا ہے !
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد