مبشر زیدی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
| | ان جھٹکوں کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور کئی شہروں میں لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے ہیں |
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے شمالی علاقوں میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب اور بدھ کی صبح زلزلے کے مزید جھٹکے ریکارڈ کیے گئے ہیں جن کی ریکٹر سکیل پر شدت پانچ اعشاریہ آٹھ ہے۔ ان' آفٹر شاکس' یا زلزلے کے مذید جھٹکوں کا مرکز پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے پینتیس کلومیٹر شمال مغرب میں بتایا گیا ہے۔ ان جھٹکوں کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور کئی شہروں میں لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے ہیں۔اس کے علاوہ اسلام آباد کے کچھ نجی تعلیمی اداروں کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق یہ جھٹکے خطرناک تھے اور اس سے آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں نقصان ہو سکتا ہے۔ تاہم ابھی تک کہیں سے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ یہ جھٹکے اسلام آباد، مظفرآباد، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بالا کوٹ اور پشاور سمیت شمالی علاقہ جات میں بھی محسوس کیے گئے۔ یہ جھٹکے پچیس سیکنڈ تک جاری رہے۔ محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل قمر زمان نے کہا ہے کہ رات کو دو بج کر بیس اور تین بج کر پینتیس منٹ پر بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جن کی شدت بالترتیب پانچ عشاریہ تین اور چار عشاریہ نو تھی۔  | زلزلے کے جھٹکے  یہ جھٹکے اسلام آباد، مظفرآباد، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بالا کوٹ اور پشاور سمیت شمالی علاقہ جات میں بھی محسوس کیے گئے۔ یہ جھٹکے پچیس سیکنڈ تک جاری رہے۔  |
قمر زمان کے مطابق آٹھ اکتوبر کے تباہ کن زلزلے کے بعد اب تک سات سو چھیالیس جھٹکے محسوس کیے جا چکے ہیں اور یہ سلسلہ تین سے چار ہفتے مزید جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ ان جھٹکوں کی شدت چھ سے زیادہ نہیں بڑھے گی۔ سنیچر کے زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب تک کی اطلاعات کے مطابق 42000 سے تجاوز کر چکی ہے اور ابھی ایسے بھی علاقے ہیں جن تک رسائی نہیں ہو سکی یا جہاں ابھی منہدم مکانات اور عمارتوں سے لاشیں نکالنے کا کام مکمل یا شروع ہی نہیں ہو سکا۔ |