ہلاک شدگان، نصف مظفر آباد سے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ کے مطابق زلزلے سے ہلاک ہونے والوں میں سےتقریباً نصف کا تعلق مظفر آباد سے تھا۔ وزیر داخلہ نے بتایا ہے کہ ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق مظفر آباد میں مرنے والوں کی تعداد اٹھارہ ہزار پانچ سو ہے جبکہ زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اڑتیس ہزار سے زیادہ ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق زلزلے میں چونسٹھ ہزار سے زیادہ زخمیوں میں سے اکتالیس ہزار کشمیری باشندے ہیں۔ پاکستان فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایک ہفتہ قبل آنے والے زلزلے میں اب تک اڑتیس ہزار افراد ہلاک جبکہ ساٹھ ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دور دراز علاقوں سے تباہی اور ہلاکتوں کی مزید اطلاعات آ رہی ہیں۔ مظفرآباد میں بی بی سی کی نامہ نگار ڈیمیتھا لتھرا کے مطابق ابھی بھی کئی علاقے اور گاؤں ایسے ہیں جہاں نہ زمینی مدد پہنچی ہے اور نہ ہیلی کاپٹروں سے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ انتظار کر رہے ہیں، امید کر رہے ہیں لیکن کھلے آسمان کے نیچے رہنے کی وجہ سے کئی لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔ زلزلہ آنے کے ایک ہفتے کے بعد بھی لوگوں کے پاس ٹینٹ، کمبل، کھانے کی اشیاء کی کمی ہے۔ نامہ نگار کے مطابق مظفر آباد میں اب لوگ اپنے ٹوٹے پھوٹے گھروں کو واپس جا رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ وہاں سے جو بھی بچ سکے وہ نکال لیں۔ ان ہی میں ایک خاندان بے چینی سے گھر کے ملبے کے اندر سے ایک چیز ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ کوئی پرانی یادگار چیز یا زیور نہیں ہے بلکہ ایک چیک ہے جو ان کے خاندان کے ایک فرد کی برطانیہ میں کینسر کا علاج کروانے کے لیے دی گئی گرانٹ کا ایک چیک ہے۔
دریں اثناء امدادی تنظیموں نے متاثرین پر خراب موسم سے پڑنے والے اثر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ متاثرین خصوصاً بچے موسم کی سختیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ اقوام ے متحدہ کے ادارے یونیسف نے کہا ہے کہ سردی کا موسم آتے ہی بچے نزلہ زکام، خوراک کی کمی اور دیگر بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ برطانوی فلاحی تنظیم اوکسفیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان دشوارگزار علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں کمبل اور خیمے پہنچانے کی ضرورت ہے جہاں بہتر حالات میں بھی رسائی آسان نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||