مصنوعی اعضاء کی ہنگامی اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں امدادی اداروں نے کہا ہے کہ وہ علاقے جہاں رسائی دشوار ہے، وہاں ابھی تک طبی امداد، خیمے اور اشیائے خورد و نوش نہیں پہنچ سکیں جس سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خطرہ ہے۔ اسی دوران پاکستان نے ایکسرے مشینوں اور مصنوعی اعضاء کے لیے ہنگامی اپیل کی ہے تاکہ زخمیوں کا فوری علاج ممکن ہو سکے۔ فیڈرل ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق احمد نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ مرنے والوں کی تعداد جو اب تک سینتالیس ہزار سے زیادہ ہے مزید بڑھ سکتی ہے۔ منگل کو سرحد کے ایک وزیر نے کہا تھا کہ صرف ان کے صوبے میں لگ بھگ اڑتیس ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ زلزلے سے زخمی ہونے والی کی تعداد ستر ہزار سے متجاوز ہے۔ مظفرآباد میں بی بی سی کے نامہ نگار مائیک وولرج نے بتایا ہے کہ ہیلی کاپٹروں کا ایک بیڑہ متاثرہ علاقوں سے زخمیوں کو طبی مراکز میں منتقل بھی کر رہا ہے اور ان علاقوں میں امداد بھی پہنچا رہا ہے لیکن اب بھی آمد و رفت کے مسائل کافی سنگین ہیں۔ ہیلی کاپٹر پہاڑی علاقوں میں بھی خیمے اور امدادی سامان پہنچا رہے ہیں جو کافی نہیں ہے اور وہاں نہ صرف طبی امداد کی ضرورت ہے بلکہ زخمیوں کو واپس لانا بھی ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے۔ جوں جوں ہیلی کاپٹر مشکل اور دشوار گزار علاقوں میں پہنچ رہے ہیں اور زخمیوں کو واپس لا رہے ہیں، خدشات بڑھ رہے ہیں کہ زخمی اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد اندازوں سے بہت زیادہ ہے۔ عدنان ایستا ایک پاکستانی تنظیم کے لیے کام کرتے ہیں جو امدادی کاموں میں سرگرم ہے۔ ان کا کہنا ہے: ’اگر زلزلے سے سو آدمی ہلاک ہوئے ہیں تو پھر طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے پچاس انسان مر رہے ہیں۔ لوگ معذور ہو رہے ہیں اور زندگی بھر کے لیے مزید معذور ہوں گے۔‘ دریں اثناء بھارتی حکومت نے اپنے اور پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے درمیان ٹیلی فون رابطے بحال کر دیے ہیں۔ رابطے کی اس بحالی کے بعد لوگ اس قابل ہو سکے ہیں کہ اپنے رشتہ داروں سے بات کر سکیں۔ پاکستان اور بھارت کے زیرِ انتظام کمشیر کے درمیان ٹیلی فون کی سروس پندرہ سال قبل بھارت کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد معطل ہوگئی تھی۔ دونوں ممالک لائن آف کنٹرول ( ایل او سی) کو کھولنے پر بھی غور کر رہے ہیں جس سے دونوں اطراف کے خاندانوں کو آنے کی اجازت ہو گی۔ لائن آف کنٹرول نےاس متنازعہ علاقے کو تقسیم کر رکھا ہے۔ جموں کے مختار احمد وہ پہلےشخص تھے جنہوں نے پاکستان کے زیر ِانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں اپنے خاندان کے افراد کے حالات معلوم کیے اور انہیں پتہ چلا کہ ان کے خاندان کے سترہ افراد اس زلزلے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ بھارت نےاس حوالے سے جموں، سری نگر، ٹنگڈار اور اڑی میں چار سینٹر قائم کیےہیں۔ جہاں مفت ٹیلی فون کال کی سہولت دی جا رہی ہے۔ حکومت کے اس اقدام کا کشمیریوں نے خیر مقدم کیاہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||