گلے میں گھر کا پتہ، ہاتھ پر ٹیلیفون نمبر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی کے جنرل ہسپتال میں ایک وارڈ ایسا بھی ہے جہاں ان بچوں اور خواتین کو رکھا گیا ہے جن کے ورثا کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ اس وارڈ میں داخلے سے پہلے ہی بچوں کے رونے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ اس وارڈ میں کئی بچے ایسے تھے جن کو ان کے والدین یا ورثا نے یا تو ان کے ہاتھوں پر ان کے گھر کا پتہ لکھ کر یا ان کے گلے میں ٹیلیفون نمبر لکھ کر ڈال دیا تھا۔ان بچوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں سے اسلام آباد لایا گیا تھا۔ ان خواتین اور بچوں کو صحت مند ہونے کے بعد حکومت کی نگرانی میں رکھا جائے گا تا وقت کہ ان کے ورثا نہیں مل جاتے۔ ہسپتالوں میں ان مریضوں کی سیکیورٹی کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے خصوصا خواتین اور بچوں کا تاکہ انہیں کوئی اغوا نہ کر سکے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے ہسپتالوں میں آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے سے زخمی ہونے والے ہزاروں افراد کا علاج کیا جا رہا ہے اور ان شہروں کے تین بڑے ہسپتال پمز، روالپنڈی جنرل ہسپتال اور ہولی فیملی ہسپتال میں گنجائش سے تین گنا مریضوں کو رکھا گیا ہے۔
گو ان ہسپتالوں میں ادویات اور ڈاکٹروں کی کمی نہیں ہے مگر اسلام آباد کے سب سے بڑے ہپسپتال پمز کے ایگزیکٹوٹو ڈائریکٹر فضل ہادی کا کہنا ہے گزشتہ بارہ روز میں پندرہ سو سے زائد زخمی افراد کے آپریشن کیےگئے ہیں جس کے بعد اب زخمیوں کو خون کی فراہمی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں اور ہسپتال میں خون کی کمی ہو گئی ہے۔اس کے علاوہ ان ہسپتالوں میں تشنج سے بچاؤ کے ٹیکے بھی ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے بڑے ہسپتالوں میں مریضوں کی عیادت کرنے والوں کے بیٹھنے کی جگہوں پر بھی اب مریضوں کے بستر رکھے گئے ہیں۔ ان ہسپتالوں میں بچوں کے وارڈ سب سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں۔ پمز کے بچوں کے حصے کے انچارج ڈاکٹر ظہیر عباسی کا کہنا ہے کہ ابھی تک ان کے ہسپتال میں ساڑھے گیارہ سو سے زائد زخمی بچے لائے گئے ہیں۔ اس ہسپتال کے کمپاؤنڈ میں ہر طرف زخمی بچے لیٹے ہوئے تھے جن میں سے کسی کے سر، کسی کے پیر اور کسی کے بازو پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔بہت سے بچے اپنے کسی نہ کسی عضو سے محروم ہو چکے ہیں۔ بچوں کے وارڈ میں زیادہ تر بچے اتنی تکلیف میں بھی رضاکاروں کی طرف سے مہیا کی گئی رنگ بھرنے کی کتابوں،غباروں اور کھلونوں سے بہل گئے ہیں مگر جب ان سے بات کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ پھر سے زلزلے کے خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ان ہسپتالوں میں بچوں کے وارڈ کو مقامی سکولوں کے طلبا اور طالبات نے ان بچوں کے لیے خصوصی طور پر اس طرح سجایا ہے کہ وہ کچھ دیر کے لیے اپنی تکلیف اور محرومیاں بھول سکیں۔ اس کے علاوہ ہر روز سینکڑوں مقامی سکولوں کے طلبا و طالبات ان بچوں اور مریضوں کی عیادت کے لیے ان ہسپتالوں کا دورہ کرتے ہیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے ہسپتالوں میں تو زلزلے سے متاثرہ افراد کی دیکھ بھال اچھے طریقے سے ہو رہی ہے مگر زلزلے سے متاثرین کی ایک بڑی تعداد جن کا علاج صوبہ سرحد اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں قائم کیے گئے عارضی فیلڈ ہسپتالوں میں ہو رہا ہے وہ خیموں میں انتہائی سرد موسم سہہ رہے ہیں۔ ان کے جسمانی زخم کو شاید مندمل ہو جائیں مگر ان کے اپنوں کے بچھڑنے کا غم ان کے ساتھ عمر بھر رہے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||