’ ہم اسی ملبے پر بیٹھے رہیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد اور پاکستان کے زیرِ انتطام کشمیر میں زلزلے کی تباہی کے تیرہ روز بعد بھی کئی علاقے سڑک ہونے کے باوجود نہیں کھل پائے۔ بالاکوٹ کاغان مین شاہراہ پر بالا کوٹ سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک گاؤں سندوری ڈبریاں میں بھی گیارہویں روز ہی امدادی گاڑیاں جا سکیں۔ اس گاؤں میں اپنے ہی مکان کے ملبے پر مستقل رہنے والے کئی خاندانوں میں سے ایک سے ملاقات کا احوال: علی اصغر کا پتہ ڈھونڈنا دنیا کا سب سے آسان کام ہے۔ بس آپ بالاکوٹ سے دسویں کلومیٹر سے چند سو گز آگے سڑک کے کنارے کھڑے ہوکر نیچے کی جانب دیکھیں تو چیڑ کے درختوں کے بیچ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ملبے کے ڈھیر نظر آئیں گے۔ ان میں سے جس ڈھیر پر آپکی سب سے پہلے نظر پڑے سمجھ لیجیے کہ یہی علی اصغر کا مکان ہے۔ آٹھ اکتوبر کو صبح آٹھ بج کر انچاس منٹ تک یہ ایک متوسط درجے کا پکاگھر ہوگا جو صرف بیس سیکنڈ میں ہی ایسا ہو گیا کہ اب اسکی چھتیں زمین کا حصہ لگتی ہیں۔اسی پر ٹوٹی ہوئی لکڑی کی کڑیوں، ایک چارپائی پر رکھے ہوئے کچھ برتنوں اور سائڈ پر پتلے کپڑے سے خود ہی بنائے ہوئے خیمے کے آس پاس آپ کو کچھ انسان نما سائے چلتے پھرتے نظر آئیں گے۔ یہ علی اصغر ہیں جو اسلام آباد میں شٹرنگ کا کام کرتے ہیں۔جب آٹھ تاریخ کو انہیں خبر ملی تو اگلے روز رات تک وہ جیسے تیسے بالا کوٹ تک پہنچ گئے لیکن آگے کا راستہ بند تھا۔ علی اصغر کو مجبوراً مانسہرہ واپس آنا پڑا اور دو روز کی کوشش کے بعد علی اصغر اپنے تین چچازاد بھائیوں کے ہمراہ گھر تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ اس وقت تک ان کے گھر کی عورتیں ملبے سے علی اصغر کے والد کی لاش نکال چکی تھیں جبکہ قریب کے سکول سے ان کے بھائی کی بچی کی لاش بھی مل گئی تھی۔ آئیے میں اس گھر کے باقی لوگوں سے آپ کو ملواؤں۔۔۔
یہ جو خاموشی سے اپنے چھوٹے بیٹے کو چمٹائے دھنسے ہوئے مکان پر خاتون ی بیٹھی ہیں یہ علی اصغر کی بھابی نسرین بی بی ہیں۔ انہی کی بچی اسکول میں دب گئی تھی۔ چارپائی کی پائنتی پر جو خاتون موجود ہیں وہ علی اصغر کی بہن شمشاد ہیں۔ ان کے چار بچے ہیں۔ دو بچیاں اسکول جاتی ہیں اور دو لڑکے ابھی چھوٹے ہیں جو ایک ایک قمیض پہنے ادھر سے ادھر منڈلا رہے ہیں۔ شمشاد کے کاندھے سے ٹیک لگائے جو سات سال کی صدف ٹکر ٹکر دیکھ رہی ہے یہ آپ کو بتائے گی کہ اس کی دس سہیلیاں تھیں جن میں سے چار اس لیے دب کر مرگئی کیونکہ وہ ان بچوں میں تھیں جنہیں کلاس روم سے نکلنے کی مہلت نہیں مل سکی۔ صدف آپ کو یہ بھی بتائے گی کہ جب وہ کلاس میں تھی تو دھل دھل کی آواز آئی اور اسے کئی اور بچوں سمیت ٹیچر نے دروازے سے باہر دھکا دے دیا۔ صدف کے برابر میں علی اصغر کی بیوی اطہر شفا ہیں۔ ان کی گود میں ایک چھوٹا سا بچہ ہے جو بار بار کھانس رہا ہے اور اپنی ماں کی ناک پکڑنے کی مستقل کوشش میں ہے۔ اگر آپ یہ پوچھیں کہ شروع کا ایک ہفتہ انہیں کھانے کو کیا ملا تو اطہر شفا بتائیں گی کہ شروع کے چار دن مکئی کی آس پاس لگی فصل کے سٹے ابال ابال کر گزارہ ہوا۔ اس کے بعد مانسہرہ میں موجود اس کے شوہر کے چچا زاد بھائیوں نے دو تین مرتبہ پیدل خشک راشن پہنچایا اور چولہا جلنا شروع ہوا اور دو روز پہلے کسی تنظیم کا رضاکار چاول کا تھیلا دے گیا۔ اس موقع پر اطہر کے شوہر علی اصغر نے بیوی کی بات کاٹتے ہوئے کہا کہ اب تک صرف ایک دفعہ ایک مذہبی تنظیم کے کارکن کچھ کھانے پینے کی چیزیں دے کر گئے ہیں۔ فوجی راستے صاف کرنے کے دوران یہاں سے کبھی کبھی گزرے لیکن انہوں نے اب تک نہیں پوچھا کہ یہاں کتنے زندہ ہیں اور کتنے مر گئے۔ میں نے علی اصغر کی بھابی نسرین بی بی سے بات کرنا چاہی لیکن اس نے اوپر دیکھنا شروع کر دیا۔ان کے شوہر آج پہلی مرتبہ بالاکوٹ گئے تھے تا کہ کوئی کام کی چیز لا سکیں۔ علی اصغر کی بہن شمشاد نے بتایا کہ چونکہ سب کچھ ملبے میں دبا ہوا ہے اس لیے گزشتہ ہفتے کی شدید بارشوں کا مقابلہ سب نے تن پر موجود کپڑوں میں ہی کیا۔ بچے بارش کے دوران اس خیمے میں رہتے رہے جو گھر والوں نے خود ہی ملبے سے کپڑے کھینچ کھینچ کر جوڑ جاڑ کر بنایا اور بڑوں نے یہ موسم بھی کھلے میں رہ کر جھیلا۔ اس گفتگو کے دوران اسی گاؤں کے ایک پینسٹھ ستر سالہ بزرگ غلام ربانی بھی خاموشی سے ایک طرف آ کر بیٹھ گئے۔ اس کے ہاتھ پر ایک زخم تھا۔ غلام ربانی نے کہا کہ نیچے ان کا گھر بھی ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اور اس کے گھر والوں نے بارش سے بچاؤ کے لیے مکئی کی فصل اکھاڑ کر ایک چھپر سا بنا لیا تھا۔ میں نے غلام ربانی سے پوچھا کہ زخم کا کیا ہوگا۔ کہنے لگے ’ کل راستہ کھلا ہے آج بالاکوٹ جاؤں گا پٹی کروانے مگر میں وہاں سے بھاری سامان نہیں لا سکتا بازؤوں میں اتنی طاقت نہیں بچی‘۔ کیا علی اصغر کا خاندان اسی طرح ملبے پر بیٹھا رہے گا۔اس کے جواب میں علی اصغر کا کہنا ہے کہ وہ کوشش کر رہا ہے کہ کوئی مناسب ٹینٹ ہاتھ آجائے۔ ان کا کہنا تھا کہ’عید تک کوشش کروں گا۔ اگر نہ ملا تو پھر یہی ملبہ اٹھانے کی کوشش کریں گے‘۔ میں نے پوچھا یہ ملبہ آج سے ہی کیوں اٹھانا شروع نہیں کیا جا سکتا۔اس کا جواب علی اصغر کی بہن شمشاد نے یہ دیا کہ ہمارے آس پاس جتنے مرد ہیں انہیں اپنوں اپنوں کی دیکھ بھال سے ہی فرصت نہیں۔ سب نڈھال ہیں۔ایسے میں کون کس کی مدد کرے گا۔پھر روزانہ زلزلہ آ رہا ہے۔ اس کے خوف میں کوئی ملبہ ہٹانے کو تیار نہیں۔ تاہم ان حالات میں بھی علی اصغر کے گھر کی عورتوں کو یہ دکھ بار بار ستائے جا رہا تھا کہ وہ مہمان کو چائے کی پیشکش بھی کیوں نہیں کر پا رہیں۔ سندوری ڈبریاں کے ہر گھر کی یہی کہانی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||