BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 October, 2005, 10:27 GMT 15:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسکان: جو بچ گئی، جو چھن گئی

 مسکان
مسکان ہسپتال میں سارے وارڈ کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے
اس کا نام تو مسکان ہے مگر اس کے چہرے پر تکلیف اور کرب کے تاثرات ہیں۔

تین سالہ مساکن بالاکوٹ کی رہائشی ہے۔ جس کی ماں زلزلے کے دوران اپنے ہی گھر کے نیچے دب کر ہلاک ہو چکی ہیں۔ جبکہ چچا اور دادی شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

مسکان، اس کی، دادی اور چچا یاسر کو بالا کوٹ سے مانسہرہ اور بعد میں اسلام آباد سے کراچی لایا گیا ہے۔

مسکان کے چچایاسر نے بتایا کے آٹھ اکتوبر کو صبح وہ کالج جانے کے لیے گاڑی میں سوار ہوئے تھے۔ راستے میں اچانک ایک تودا اوپر سے گرا اور ڈاٹسن کھائی میں گر گئی۔ وہ دو روز وہیں پڑے رہے۔ کوئی مدد کرنے نہیں آیا اس دوران بارش بھی شروع ہوگئی اور وہ بے ہوش ہوگئے ۔ آخر ان کے بھائی اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے ان تک پہنچ گئے جنہوں نے انہیں اسپتال پہنچایا۔

یاسر نے بتایا کہ مسکان، ان کی دادی اور پھوپھی گھر میں تھیں۔ جیسے ہی زلزلے آیا تو سارے باہر نکلنے کو دوڑے جس میں ان کی دادی تو باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئیں جبکہ پھوپھی اور ماں اندر ہی رہ گئیں اور دونوں ہی دب کر فوت ہوگئیں۔ مسکان کوان کی ماں نے سینے سے لگالیا تھا تاکہ اس ننھی سے جان کو بچاسکے۔

مسکان چھبیس گھنٹے دیواروں میں قید رہی جب ملبہ ہٹایا گیا تو وہ اپنی ماں کے پہلو میں تھی ۔اس کے والد ملبے سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور انہوں نے ہی دوسروں کو باہر نکالا۔

سول اسپتال کے آرتھوپیڈک وارڈ میں زیر علاج مسکان کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی ہے جسے آپریشن کر کے جوڑا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کی کوشش ہے کہ اس گڑیا جیسی بچی کو معذوری سے بچایا جاسکے۔

جب یہ بچی درد میں چیختی ہے تو کئی لوگوں کے سینے چھلنی ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹر، نرسیں اور دوسرے مریض تک اس کے پاس دوڑے آتے ہیں اور جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسے کیا ہوا؟

اس وقت وہ سب کی نظروں کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس کے والد گاؤں میں ہیں جبکہ چچا یاسر اسی وارڈ کے نچلی عمارت میں زیر علاج ہے اور ان کی دادی کسی رشتے دار کے پاس رہ رہی ہیں۔ مسکان کا خیال اس کے والد کا کزن اور اس کی بیوی کر رہے ہیں۔

حاکم جان

ایسی ہی درد بھری کہانی حاکم جان کی ہے۔ جو اس تباہی میں بچ تو گئی ہے مگر زندہ لاش بن کر پھر رہی ہے۔ اس کے دیور عبدالعزیز نے بتایا کہ جب زلزلہ آیا تو اس کی والدہ مریم بی بی جھاڑو دے رہی تھی جبکہ اس کی بھابی حاکم جان آنگن میں تھی۔

جھٹکے لگتے ہی حاکم جان پہاڑی سے نیچے گرتی چلی گئی جبکہ چار سالہ ثاقب دیواروں میں دب گیا۔اس کو بچانے کے لیے دادی نے کوشش کی تو ملبہ اس کی ٹانگ پر گر گیا اور وہ بھی زخمی ہوگئی ہے۔

دونوں کو علاج کے لیے کراچی میں لایا گیا ہے۔ عبدلعزیز کے مطابق ہمارا گاؤں اوپر پہاڑی پر ہے۔ اس لیے وہاں کوئی ٹیم نہیں آ رہی۔ جبکہ کیمپوں میں بھی گنجائش سے زیادہ رش ہے اس لیے ہم ان کو یہاں علاج کے لیے لائے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد