| | آصف اقبال نے کہا کہ بالا کوٹ میں نوے فیصد، بٹ گرام میں نوے فیصد اور الائی میں اسی فیصد تباہی ہوئی ہے |
صوبہ سرحد کے صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال نے کہا ہے کہ زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد سینتیس ہزار نو سو اٹھاون تک پہنچ چکی ہے اور اس میں اضافے کا بھی اندیشہ ہے۔ بی بی سی اردو سے بات کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ خدشہ یہی ہے کہ یہ اموات اسی ہزار سے لے کر ایک لاکھ تک ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شمالی علاقہ جات کے پانچ اضلاع میں زلزلہ آیا ہے اور اس کی شدت تھی وہاں کی تباہی اور مکانات کے گرنے سے ظاہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصا بالا کوٹ میں نوے فیصد، بٹ گرام میں نوے فیصد اور الائی میں اسی فیصد تباہی ہوئی ہے اور جس طرح سے تباہی ہوئی ہے اس سے ہلاکتیں اور زخمیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ بہت سے لوگ ابھی تک ملبے تلے دبہ ہوئے ہیں اور بہت سے علاقے ایسے بھی ہیں جہاں تک حکومتی رسائی نہیں ہو سکی ہے۔ اس سوال پر کہ کل تک صوبائی حکام کہہ رہے تھے کہ ہلاک شدگان کی تعداد تیرہ ہزار ہے تو یہ کس طرح آج اچانک سینتیس ہزار تک پہنچ گئی تو انہوں نے کہا کہ بہت سے علاقے ایسے ہیں کہ جہاں تک رسائی ابھی ممکن نہیں ہو سکی۔ مانسہرہ میں اس وقت چونکہ فوج پوری طرح سے کام کر رہی ہے اور علاقوں میں ریلیف بھی فراہم کر رہی ہے اور راستہ کھولنے کی بھی کوشش کر رہی ہے تو ساتھ ساتھ حکومتی اعداد و شمار میں بھی اضافہ ہوتا رہا ہے لیکن جن کی اطلاع ہے وہ تیرہ ہزار سے اڑتیس ہزار ہیں۔ وہ اس لیے کہ ابھی بہت سارے لوگ ملبے تلے دفن ہیں۔ کچھ ابھی تک لاپتہ ہیں جو زخمی ہیں وہ ہسپتالوں میں موجود ہیں اور جو لاپتہ ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ دس دن کے بعد ان کا شمار مرنے والوں میں ہی ہو گا۔ |