زخمیوں کا جہاز کراچی پہنچ گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زلزلے سے متاثر علاقوں میں سے زخمیوں کو کراچی لانے کا سلسلہ جاری ہے۔ بدھ کی شب ایک چارٹر طیارے کے ذریعے بیس زخمیوں کو کراچی پہنچایا گیا۔ ان زخمی افراد کو مانسہرہ سے کراچی لانے کا انتظام ایک نجی چینل نے کیا تھا۔ زخمیوں کو لیکر کورئیر سروس کا طیارہ پی اے ایف کے فیصل بیس پہنچا جہاں سے ان کو شہر کی مختلف نجی ہسپتالوں کے لیے روانا کیا گیا۔ زخمیوں میں چار بچے، دس خواتین اور چھ مرد شامل ہیں۔ ان کے ساتھ ایک ایک رشتہ دار بھی تیمارداری کے لیے آیا ہوا ہے۔ تمام افراد کی ٹانگیں یا بازو زخمی تھے۔ جبکہ بچوں کو سر پر پٹیاں بندھی ہوئی تھی۔ زخمیوں کی آمد کا سن کر شہر کے نجی اسپتالوں اور ایدھی سروس کی پچاس سے زائد ایمبولینس فیصل ایئر بیس پر پہنچ گئیں تھیں۔ جبکہ طیارہ میں گنجائش کم ہونے کی وجہ سے مزید مریض نہ لائے جا سکے۔ مریضوں کو لانے والے ڈاکٹروں کی تنظیم پی ایم اے کے رہنما ڈاکٹر ٹیپو سلطاں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مریضوں کے ہاتھ پاؤ ں ٹوٹے ہوئے ہیں۔ جن مریضوں کی حالت تشویشناک ہے ان کو نہیں لایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مانسہرہ اور بالاکوٹ میں سیکڑوں مریض پڑے ہوئے ہیں۔ چوبیس گھنٹے آپریشن ہورہے ہیں مگر مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں سی ون تھرٹی یا چارٹر طیارہ فراہم کیا جائے تو ہم مزید مریض لائینگے۔ اگر روزانہ سو مریض بھی لائے جائیں تو وہاں مریض کم نہیں ہونگے۔ ڈاکٹر ٹیپو کا کہنا تھا کہ اگر مزید دیر ہوئی تو لوگ معذور ہوجائینگے۔ انہوں نے کراچی کے نجی ہسپتالوں کے مالکان سے اپیل کی کہ وہ فراخدلی کا مظاہرہ کریں۔ ایک زخمی ممتاز نے بتایا کہ ہسپتال مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ کسی کی ٹانگ ٹوٹ گئی ہے تو کسی کا بازو نہیں ہے۔ اب ڈاکٹروں کے بس کی بات نہیں رہی۔ اپنے پانچ سالہ پوتے کیساتھ آنے والے شاکر نے بتایا کہ ڈاکٹر بھی جاگ جاگ کر اور دن رات کام کی وجہ سے تھک گئے ہیں۔ مگر مریض کم ہی نہیں ہو رہے۔ انہوں نے بتایا کہ مزید مریض کراچی آنے کوتیار ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل کراچی میں زلزلے سے متاثر دس مریض لائے گئے تھے جن میں سے چھ سول ہسپتال اور باقی جناح ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||