BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 October, 2005, 10:15 GMT 15:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وفاق اور صوبے میں ہلاکتوں پر تضاد

زلزلے کی تباہ کاریاں

صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سینتیس ہزار سے زائد ہے۔


صوبائی حکومت کا اصرار ہے کہ زلزلے کو تیرہ دن گزر جانے کے بعد لاپتہ افراد کے زندہ بچ جانے کی کوئی امید نہیں اور اس نے لاپتہ افراد کو بھی مردہ تصور کرنا شروع کر دیا ہے۔

سرحد کے مقابلے میں وفاقی حکومت بظاہر اعدادوشمار کے معاملے میں احتیاط سے کام لے رہی ہے۔ صوبائی حکومت کے برعکس وفاقی حکومت نے صوبہ سرحد اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مرنے والوں کی کل تعداد سینتالیس ہزار بتائی ہے۔

صوبائی دارالحکومت پشاور میں جمعرات کے روز ایک بریفنگ کے دوران صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال نے واضح کیا کہ وہ اس تعداد میں مزید اضافے کی توقع کر رہے ہیں۔ ’ کئی علاقوں تک اب تک رسائی نہیں ہوسکی ہے۔ ان کے کھلنے سے اس میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔‘

صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ ان کے اندازے کے مطابق چالیس لاکھ کی آبادی والے پانچ متاثرہ اضلاع میں مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ تک ہوسکتی ہے۔

تاہم اس موقع پر صحافیوں کو جو اعدادوشمار کی تحریری تفصیل فراہم کی گئی تھی اس میں تیرہ ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت مصدقہ اور سینتیس ہزار غیرمصدقہ بتائی گئی ہیں۔ یہ تعداد صوبائی حکومت کا کہنا تھا انہیں فوج نے فراہم کی ہیں۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ان کے اعدادوشمار کے مطابق اب بھی مرنے والوں کی تعداد سینتیس ہزار سے زائد ہے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ اس شمار کی دوبارہ تصدیق کے لیے انہوں نے مقامی حکام کو حکم جاری کر دیا ہے۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے آصف اقبال نے بتایا کہ پولیس کی سپیشل برانچ کے لوگ ان علاقوں میں خود جا کر اموات اور دیگر نقصانات کی تصدیق کرتے ہیں اور یہ صرف زبانی معلومات پر اکھٹے نہیں کیے جاتے ہیں۔ ’اس مقصد کے لیے سپیشل برانچ کی اضافی نفری بھی علاقے میں بھیجی گئی ہے۔‘

تازہ اعدادوشمار کے مطابق ضلع مانسہرہ میں سب سے زیادہ، بتیس ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسرے نمبر پر بٹ گرام میں انتالیس سو افراد کی ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔

وزیر اطلاعات آصف اقبال کے مطابق ان کے اعدادوشمار کی تصدیق بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے بھی کی ہے۔

صوبائی حکومت کا کہنا تھا کہ صوبے کے کئی علاقوں کا زمینی رابطہ تیرہویں روز بھی زمین کے کٹاؤ یا ’لینڈ سلائڈنگ‘ کی وجہ سے ملک کے باقی حصوں سے منقطع ہے۔ ان میں کوہستان اور بٹ گرام کے کئی علاقے شامل ہیں۔

بدھ کے روز صوبے کے متاثرہ علاقوں میں چالیس سے زائد ہیلی کاپٹروں کی پروازوں کے ذریعے امدادی سامان پہنچایا گیا ہے۔

خیموں کا شہر
گھروں سے خیمہ بستیوں تک: تصاویر میں
66گھر سے بےگھر ہونا
اللہ نے چاہا تو ہم اپنے گھر واپس جائیں گے۔ متاثرین
66زندگی کی واپسی
باغ میں زندگی معمول پر آ رہی ہے: تصاویر
66کاغان کا غم
کاغان میں گاؤں کے گاؤں صفحۂ ہستی سے مٹ گئے

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد