| | زلزلے سے پاکستان زیرِانتظام کشمیر کا ضلع باغ بری طرح متاثر ہوا ہے |
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے امدادی ادارے ان کی اپیل پر امدادی رقوم فراہم کر یں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ’یہ متاثرہ افراد کی بحالی اور علاقے کی تعمیرِ نو کا بہت بڑا آپریشن ہے جس کے لیے ہمیں مالی امداد کی ضرورت ہے۔ ہم اپنے مالی وسائل استعمال کر رہے ہیں اور میں نے دنیا بھر کے مالک سے بھی اپیل کی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ عالمی امدادی اور مالیاتی ادارے ہمیں رقم فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ہم اتنی رقم جمع کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ اس چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکے‘۔ اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے خبردار کیا تھا کہ اگر دنیا نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں رہنے والوں کی بر وقت مدد نہ کی تو وہاں اموات کی دوسری لہر آ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’دور افتادہ علاقوں میں ابھی بھی دسیوں ہزار افراد ایسے ہیں جن تک رسائی نہیں ہو سکی۔ سردی سر پر آ گئی ہے اور ابھی بھی تیس لاکھ افراد بے گھر ہیں‘۔ کوفی عنان نے امداد دینے والے ممالک اور اداروں سے بھی کہا کہ وہ اگلے ہفتے جنیوا میں ہونے والی زلزلے سے متعلق کانفرنس میں بھرپور طریقے سے شرکت کریں۔ انہوں نے کہا کہ ’میں امداد دینے والوں اور نیٹو اور اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے رکن ممالک کے تمام وسائل بروئے کار لائیں تاکہ متاثرہ علاقوں میں سامان پہنچانے کے مشکل ترین چیلنج سے نمٹا جا سکے‘۔ اقوامِ متحدہ کے ہنگامی امداد کے کمشنر ژاں ایگلین نے بھی جنیوا میں ایک اجلاس میں شرکت کی جس میں زلزلے کے دو ہفتوں کے بعد کے حالات کا جائزہ لیا گیا۔ گزشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ نے دنیا سے اپیل کی تھی کہ متاثرین کی امداد کے لیے فوری طور پر ستائیس کروڑ ڈالرز کی ضرورت ہے جس میں سے اسے صرف پانچ فیصد رقم ملی ہے۔ |