’عزیز کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عبدالعزیز لون نے جب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ٹیلی فون لائن پر پاکستان کے زیرانتظام مظفر آباد سے اپنی بہن یاسمین کی آواز سنی تو ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں۔ ’آپ کیسے ہو؟ باقی لوگ کیسے ہیں؟ الحمداللہ، ہم سب خیریت سے ہیں۔ فکر مت کرنا‘۔ مسٹر لون نے حکومتی ٹیلی فون کمپنی بھارت سنچار ٹیلی فون نگم لمیٹڈ کے فراہم کردہ فون پر بات کر رہے تھے۔ وہ گرمائی دارالحکومت سری نگر قائم کیے گئے ٹیلیفون روم سے بات کر رہے تھے۔ کنٹرول روم کہے جانے والے اس ٹیلیفون روم میں زلزلے سے متاثرہ افراد کو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں اپنے عزیزوں سے کسی معاوضے کے بغیر بات کرنے کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔ اس کنٹرول روم کے گرد انتہائی کڑے حفاظتی انتظامات کیے گیے ہیں اور مسٹر لون ان اولین لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اس بلا معاوضہ ٹیلی فون سہولت کا فائدہ اٹھایا ہے۔ چوبیس گھنٹے دستیاب رہنے والی یہ سہولت منگل سے سری نگر کے علاوہ زلزلے سے متاثرہ اڑی اور تنگدار میں بھی فراہم کی گئی ہے اور پندرہ دن تک دستیاب رہے گی۔ اس کے علاوہ بی ایس این ایل نے لوگوں کو یہ سہولت بھی فراہم کی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو اپنے گھروں سے 186 ڈائل کر کے بھی یہ سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔ سولہ سال قبل پاکستان اور بھارت کے زیرانتظام کشمیروں میں یہ ٹیلی فون رابطے اس وقت منقطع کر دیے گیے تھے جب مسلح شدت پسندی شروع ہوئی تھی۔ مسٹر عزیز لون کی بہن دس سال پہلے شادی کے بعد مظفرآباد منتقل ہو گئی تھیں۔ مسٹر لون کا کہنا ہے کہ انہیں خوف تھا اس زلزلے میں ان کی بہن ہلاک نہ ہو گئی ہوں گی لیکن خدا کا شکر ہے کہ وہ حیات ہیں اور صرف ان کے گھر کو زلزلے سے نقصان پہنچا ہے لیکن اس نقصان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ وہ زندہ ہیں؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||