BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 October, 2005, 20:28 GMT 01:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کے بیان پر ملا جل ردِعمل

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ امان اللہ خان
’ایسا کرنا دانشمندی نہیں‘
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے لائن آف کنڑول کو دونوں طرف کے کشمیریوں کے لیے کھولنے کی تجویز پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیاسی رہنماؤں نے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

جنرل پرویز مشرف نے زلزلے کے بعد منگل کو مظفرآباد میں یہ تجویز پیش کی کہ لوگوں کو تعمیر نو اور اپنے عزیروں سے ملاقات کے لیے لائن آف کنڑول عبور کرنے کی سہولت میسر ہونی چاہیے۔ بھارت نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکمران جماعت مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ ’یہ تجویز خوش آئند ہے اور یہ کہ مفید اور موثر تجویز ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ’ ہم اس کی کامیابی کے بارے میں پر امید ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ’ یہ کشمیریوں کی دیرینہ خواہش تھی کہ دونوں طرف کے کشمیری لوگوں کو بغیر کسی شرط اور بے جا پابندیوں کے آپس میں ملنے جلنے دیا جائے‘۔

سردار عتیق احمد کا کہنا ہے کہ اگرچہ فوری طور اس کا استفادہ صرف انسانی ہمدردی کے تقاصوں کے پیش نظر کیا جاسکتا ہے کیوں کہ ’ہم سب تباہی کے زد میں ہیں لیکن اگلے مرحلے میں اسے سیاسی، اقتصادی، دفاعی، علاقائی اور کشمیر کے تنازے کے حل اور ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جاسکتا ہے‘۔

لیکن خودمختار کشمیر کی حامی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یا جے۔ کے۔ ایل۔ ایف کے سربراہ امان اللہ خان نے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ لائن آف کنڑول نرم ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ لائن آف کنڑول مستقل سرحد ہے جسکا مطلب ریاست جموں کشمیر کی لائن آف کنڑول کی بنیاد پر مستقل تقسیم ہے اور کسی بھی حب الوطن کشمیری کو یہ بات قابل قبول نہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ چند ملاقاتوں کے لیے ایسا کرنا دانشمندی نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا انسانی مسئلہ یہ ہے کہ کشمیریوں کو انکا بنیادی حق دیا جائے یعنی کشیریوں کو اپنے مستتقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔

پاکستان کی جماعت اسلامی نے بھی اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔ لائن آف کنڑول کے دوسری جانب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسند کشمیری رہنماؤں کے اتحاد کل جماعتی حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق اور حکمران اتحاد میں شریک پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے اس بھی اس تجویز کو خیرمقدم کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد