’سرحد: صرف خاص لوگوں کے لیے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں فوج کا کہنا ہے کہ اگر لائن آف کنٹرول کو کھولا بھی گیا تو صرف امدادی کاموں کے لیے کھلے گی اور آمد و رفت کی اجازت صرف خاص لوگوں کو ہوگی۔ فوج کے مطابق کشمیر میں امدادی کام جاری ہیں اور جلد سب کو ٹینٹ مہیا کر دیے جائیں گے۔ دلی میں ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشن مدن گوپال نے کہا کہ ’لائن آف کنٹرول اگر کھلی بھی تو صرف امدادی کاموں کے لیے ہوگی اور خاص لوگوں کو آنے جانے کی اجازت ہوگی‘۔ مسٹر گوپال نے مزید کہا کہ ابھی تو اس تجویز پر غور کیا جارہا ہے اور اس پر فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا جائیگا۔ ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ کشمیر میں زلزلے سے متاثرہ امداد کی ہر ممکن کوشش جاری ہے اور فوری طور پر پناہ دینے کے لیے لوگوں میں ٹینٹ تقسیم کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مزید ٹینٹ اب بھی تیار کیے جارہے ہیں اور جلد ہی اس کام کو پورا کرلیا جائيگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||