زلزلہ: بچ جانے والے بچوں کیلیے نیاخطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکومت کو یہ فکر لاحق ہے کہ زلزلے سے بچ جانے والے بچوں کو بردہ فروشوں سے کیسے بچایا جائے۔ حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں لا وارث اور یتیم ہو جانے والے بچے با آسانی بردہ فروشوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ پاکستان میں قومی اسمبلی کی رکن تہمینہ دستی کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اس بارے میں شدید فکر لاحق ہے اور اس معاملے پر کابینہ میں بھی غور کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ یتیم اور لاوارث ہونے والے بچوں کو ان کے انتہائی قریبی عزیزوں کے سوا کسی کے حوالے نہ کیا جائے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ ان بچوں اور بچیوں کو اس وقت تک کہیں اور نہیں بھیجا جائے گا اور حکومت ان کی اس وقت تک مکمل حفاظت اور دیکھ بھال کرے گی جب تک کے ان کے لیے کوئی الگ اور محفوظ انتظام نہیں کر لیا جاتا یا ان کے قریبی عزیز مل نہیں جاتے یا ان کے لیے ان کے اپنے گھر جانے کا معقول بندوبست نہیں ہو جاتا۔ تہمینہ دستی کا کہنا ہے کہ ان بچوں کے لیے ایس او ایس گاؤں بھی بنایے جا رہے ہیں لیکن جب تک مذکورہ بالا انتظامات میں سے کوئی انتظام نہیں ہو جاتا اس بات کو ترجیح دی جائے گی کہ یہ بچے حکومت کی تحویل میں ہی رہیں۔ حکومت پاکستان کی طرح بچوں کے لیے اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسف کو بھی شدید تشویش لاحق ہے۔ خطے میں بچوں کی حفاظت کے لیے اقوام متحدہ کی مشیر سیریپ مکتف اس وقت علاقے میں موجود ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یتیم اور لاوارث بچوں کو اکثر اوقات قدرتی آفات کے بعد اس افتاد کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مکتف کہتی ہیں کہ ’اس طرح کے حالات میں کوئی بھی آ سکتا ہے اور آ کر کہہ سکتا ہے کہ وہ بچے کا وارث یا رشتے دار ہے اور دراصل وہ نہ ہو تو ظاہر ہے کہ اس میں خطرہ تو ہوتا ہے۔ اس لیے انتہائی قریبی عزیزوں کے علاوہ بچوں کو کسی کے حوالے نہیں کیا جانا چاہیے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||