’گھر واپس چلے جائیں، امداد ختم ہوچکی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہماری نامہ نگار نامہ نگار باربرا پلیٹ نے وادئ نیلم کا دورہ کیا جہاں زلزلے کے بارہ دن بعد پہلی بار امداد پہنچی ہے۔ انہوں نے اپنے سفر کی داستان یوں بیان کی: ’ہم جیپ کے ذریعے وادئ نیلم کی پہاڑیوں پر چڑھ رہے ہیں۔ کپتان سلیم اختر کی سربراہی میں فوج کے اس امدادی کارواں میں سات فوجی ہیں جو پہاڑیوں میں ان مقامات تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں جہاں امداد نہیں پہنچی ہے۔ خوراک اور دوا کی تلاش میں لوگ پہاڑیوں سے نیچے کی جانب ایک قطار میں چلے آرہے ہیں۔ امداد پہاڑیوں کے میدانی علاقوں تک ہی محدود ہے۔‘ ہم نے راستے میں لوگوں کو دیکھا جو زخمیوں کو سٹریچر میں لے جارہے تھے۔ ’ایک مقام پر ہم جیپب کو چھوڑ کر پیدل چلنا شروع کرتے ہیں۔ آٹھ فوجی اور گاؤں والے یہ بتانے کے لئے ہمارے ساتھ شامل ہوئے ہیں کہ ہمیں جانا کہاں ہے۔ ہم ایک تنگ راستے سے گزرنے کی کوشش میں ہیں۔ ہمارا پہلا پڑاؤ ایک کچی مٹی کا ٹوٹا ہوا مکان ہے۔ کپتان سلیم اپنی نوٹ بک کھولتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ کتنا نقصان ہوا ہے۔ کسے کس چیز کی ضرورت ہے۔ اور پھر وہ کوپن دیتے ہیں تاکہ لوگ فوج کے بیس کیمپ سے راشن لے سکیں۔
ہم آگے بڑھتے ہیں تو ہمیں تین قبریں دکھائی دیتی ہیں۔ تین لوگ مر چکے ہیں۔ کچھ دیر بعد ہمیں روتی ہوئی ایک عورت نظر آتی ہے۔وہ بہت غمزدہ ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ وہ اپنی دو بیٹیوں کی پرورش کیسے کرے گی۔ لیکن ہر جگہ یہی کہانی ہے۔ لوگ گزشتہ بارہ دنوں سے آسمان تلے رہ رہے ہیں۔ یہ پہلی سرکاری امداد ہے جو انہیں آج ملی ہے۔ پھر ہم ایک دوسرے کیمپ تک پہنچتے ہیں۔ یہاں پانچ خاندانوں نے اپنے تباہ شدہ مکانات کی جگہ پر عارضی کیمپ بنائے ہیں۔ لیکن ان کے یہ خیمے سردی میں ساتھ نہیں دیں گے۔ ضمیرعالم ان پہاڑوں کی سردی سے واقف ہیں۔ وہ بتاتے ہیں: ’چونکہ ہمارے پاس خیمے نہیں ہیں، اس لئے ہمارے بچے بیمار پڑجاتے ہیں۔ ایک کو نمونیہ ہوگیا ہے۔ رات کو کافی سردی پڑتی ہے، ہم سو نہیں سکتے۔‘ ہم آرمی بیس کیمپ پہنچتے ہیں۔ یہاں لوگ کوپن لئے ہوئے امداد کے لئے آتے ہیں۔ وہ گھنٹوں انتظار کرتے ہیں تاکہ وہ ضروری اشیاء لیکر جاسکیں۔ فوجی انہیں وہ سامان دیتے ہیں جو ان کے پاس ہے: خوراک، کمبل، خیمے۔ لیکن جلد ہی یہ ختم ہوجاتے ہیں، بالخصوص خیمے۔ فوجی لوگوں کو بتارہے ہیں کہ وہ گھر واپس جائیں کیوں کہ ان کے پاس امداد ختم ہوچکی ہے۔ یہ لوگ پورا دن انتظار کرتے رہے، اب یہ لوگ دوسری صبح پھر آئیں گے۔ لوگ اس سے خوش نہیں ہیں تاہم وہ وہاں سے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بےبس محسوس کررہے ہیں۔ زلزلے نے ان کی دنیا تباہ کردی ہے۔ حکام ان کی مدد کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن کسی پر بھی انحصار نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی زندگی پر اب ان کا کنٹرول نہیں رہا۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||