لائن آف کنٹرول پر نیا ’تنازعہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ایک اعلیٰ فوجی افسر نے کہا ہے کہ بھارت نے لائن آف کنٹرول کھولنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ لیکن پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان کے مطابق انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ وفاقی ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق احمد نےایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کے بھارت نے لائن آف کنٹرول کھولنے کی تجویزقبول نہیں کی۔ انہوں نےصحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی صدر نے یہ مشورہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دیا تھا- ’وزارت داخلہ آپ کو تمام تفصیلات مہیا کر سکتی ہے لیکن یہ مشورہ اب بھارت کے لیے قابل قبول نہیں رہا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کے مطابق ان کو اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تجویز صدر پرویز مشرف کی طرف سے آئی تھی اور انہوں نے کہا تھا کہ اس بارے میں لائحہ عمل طے کر لیا جائے۔ ’جہاں تک مجھے علم ہے بھارت نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا تھا‘۔ دریں اثنا بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پاکستانی ریلیف کمشنر سے منسوب بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کیطرف سے لائن آف کنٹرول کھولنے کی تجویز مسترد کرنے کی بات بالکل بے بنیاد ہے۔ ’ہم نے صدر مشرف کی تجویز کا خیر مقدم کیا تھا لیکن ساتھ ہی ہم پاکستان کی طرف سے ان تجاویز پر عمل پیرا ہونے کی پیشکش کا انتظار کر رہے ہیں۔ لیکن ہمیں ابھی تک پاکستان کا ردعمل موصول نہیں ہوا‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||