ایل او سی کھولنے کی تجویز: ایک جائزہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے کنٹرول لائن کھولنے کی تجویز کا توقعات کے عین مطابق عالمی سطح پر خیرمقدم کیا گیا ہے۔ بھارت نے بھی اس تجویز کو خوش آئند قرار دیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس نے ہمیشہ سے ایل او سی کے آر پار کشمیریوں کی آمد و رفت کی وکالت کی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ نے بھی اس تجویز کا متوقع گرم جوشی سے خیر مقدم کیا ہے۔ مختصراً یہ تجویز اس عام خیال کی ترجمان ہے کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے ان دونوں ممالک کو قریب آنے میں مدد ملے گی۔ جیسا کہ کہا جا رہا ہے کہ وسیع عالمی حمایت سے اگر ایک مرتبہ ایل او سی کے آر پار آمدورفت شروع ہوگئی تو پھر اسے روکنا بہت مشکل ہو گا۔ ساتھ ہی ساتھ زمینی حقائق میں تبدیلیوں سے دونوں ممالک کو موقع ملے گا کہ وہ اس مسئلے پر قانونی اور سیاسی پیچیدگیوں میں الجھے بغیر مسئلہ کشمیر پر اپنے روائتی موقف سے ہٹ سکیں۔ تاہم کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں زیادہ خوش فہمی کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان میں عوام بھارت کے ساتھ امن کے سلسلے میں کسی بھی قسم کی بات چیت کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اس معاملے میں بھی یہی ہوا ہے لیکن ذرائع ابلاغ میں صدر کے حامیوں کے لیے بھی بھارتی فضائی مدد کو ٹھکرائے جانے کی قیمت کا ذکر کیے بغیر صدر کی جانب سے ایل او سی کھولنے کی تجویز کی تعریف کرنا ناممکن تھا۔ پاکستانی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کی امن کی اس دعوت کو ان کے بھارتی فضائی مدد کی پیشکش کو رد کرنے کے فیصلے سے الگ کر کے نہ دیکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی دیکھا جانا چاہیے۔ فضائی مدد کی پیشکش کو ’فوجی نوعیت کی حساسیت‘ کی بنا پر رد کیا گیا تھا جبکہ کشمیریوں نے اس پیشکش کے مسترد کیے جانے کو ان ہزاروں کشمیریوں کی موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف قرار دیا ہے جو پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان صرف کشمیر کی سر زمین میں دلچسپی رکھتا ہے اور اسے کشمیروں کی کوئی پرواہ نہیں ہے جب کہ کچھ لوگ یہ نقطہ نظر رکھتے ہیں کہ کیا ایک ایسے بچے کو دفاعی مجبوریوں کا مطلب سمجھایا جا سکتا ہے جس کے ہاتھ پاؤں اس زلزلے میں ٹوٹ گئے ہیں۔ اگر یہ سمجھ بھی لیا جائے کہ صدر کے دلائل تکنیکی اور دفاعی ضروریات کی بنیادوں پر دیے گئے ہیں پھر بھی یہ بات حیران کن نہیں کہ زیادہ تر کشمیریوں نے اس فیصلے کو حقیقت تسلیم کرنے کے بجائے انا کا مسئلہ سمجھا ہے۔ سابق فوجی اور سیاسی رہنما بھی ’فوجی حساسیت‘ کے معاملے پر یقین نہیں رکھتے‘۔ پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل اسلم بیگ کا کہنا ہے کہ’ بدقسمتی سے ہمارا سیکیورٹی سے متعلق نظریہ غلط ہے۔ آج کے دور کی تکنیکی صلاحیتیوں کی موجودگی میں کچھ بھی راز نہیں رہا‘۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ’ اگر ہم یہ بات تسلیم کر بھی لیں کہ بھارتی ہیلی کاپٹروں کو کشمیر میں پرواز کی اجازت نہیں ہونی چاہیے تو پھر بھی ان ہیلی کاپٹروں کو صوبہ سرحد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وہ یقیناً حساس علاقہ نہیں ہے اور اس سے دیگر پاکستانی ہیلی کاپٹر کشمیر میں کام کرنے کے لیے میسر آ جاتے‘۔ ان حالات میں صرف وہ مذہبی اور شدت پسند گروہ صدر کا ساتھ دے رہے ہیں جو کشمیر کے ان علاقوں میں سرگرم ہیں۔ ایم ایم اے کے پروفیسر غفور احمد کا کہنا ہے کہ ’میرا خیال ہے کہ انہوں نے بھارت کی فضائی مدد کی پیشکش کو رد کرنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا ہو گا۔ آپ اس بات سے صرفِ نظر نہیں کر سکتے کہ بھارت کے زیرِانتطام کشمیر میں فوج کے مظالم جاری ہیں چناچہ یہ ایک صحیح فیصلہ ہے‘۔ یہ وہ پس منظر ہے جس کی بنیاد پر لائن آف کنٹرول کھولنے کے مسئلے پر بات ہونی چاہیے۔ صدر مشرف کی ’ نہ‘ نے انہیں کشمیریوں اور پاکستانی سکیولر جماعتوں کی حمایت سے محروم کیا ہے اور اب ان کا انحصار مذہبی اور شدت پسند گروہوں پر ہے جو ہر حربہ استعمال کر کے کشمیر کو بھارتی تسلط سے آزاد کروانا چاہتے ہیں۔ ان حالات میں دنوں ممالک کی فوج کے درمیان موجود شکوک وشبہات اتنے شدید ہیں کہ ان کی موجودگی میں کشمیریوں کی حالتِ زار کو سیاست پر ترجیح دینا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ مبصرین سرحدیں کھولنے کے معاملے پر جلدی نہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں کیونکہ پاکستان کے پیچیدہ سیاسی حالات کے پیش ِ نظر ممکن ہے کہ اس عمل سے صرف ایک مقصد حاصل ہو اور وہ یہ کہ دنیا کی توجہ پاکستان کی جانب سے بھارتی فضائی امداد کے ٹھکرائے جانے کے معاملے سے ہٹ جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||