210 قدیم عمارتیں گر سکتی ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں واقع دو سو دس قدیمی عمارتوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے اور انہیں خالی کروانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے چیف کنٹرولر بریگیڈیئر ایس اے ناصر نے کشمیر اور شمالی علاقاجات میں شدید زلزلے کی تباہ کاریوں کے بعد سندھ حکومت کو ایک یاداشت نامہ بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شہر میں خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کو خالی کروایا جائے۔ خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کرنے والی کمیٹی نے دو سو دس عمارتوں کو خطرناک قرار دیا ہے جس میں سے باون عمارتوں کو تاریخی ورثہ قرار دیا جا چکا ہے۔ ایس اے ناصر کا کہنا ہے کہ کسی حادثے سے بچنے کے لیے ان عمارتوں کو فوری خالی کروایا جائے۔ان کے مطابق انسانی جانیں تاریخی ورثے سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ بلڈنگ اتھارٹی کے مطابق رن کچھ اور کراچی میں آنے والے زلزلے کے بعد بلڈنگ کنٹرول کے قوانین میں ترمیم کی گئی تھی جس کے بعد بڑی عمارتوں کی تعمیر کے لیے ان میں زلزلہ برداشت کرنے کی صلاحیت ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سندھ اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں بھی اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ عمارتوں کی تعمیر کے قوانین میں ترمیم کی جائے۔ سندھ کے وزیرِاعلیٰ ارباب غلام رحیم کا بھی کہنا ہے کہ اگر کبھی کسی ناگہانی آفت کی صورت میں کراچی میں کوئی عمارت گر بھی گئی تو حکومت کچھ نہیں کر سکے گی اور لوگوں کو نکالنے میں ہی کئی دن لگے جائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||