BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 October, 2005, 07:51 GMT 12:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
210 قدیم عمارتیں گر سکتی ہیں

کراچی کا وزیر مینشن
بانی پاکستان کی جائے پیدائش وزیر مینشن کی حالت بھی دگرگوں ہے
کراچی میں واقع دو سو دس قدیمی عمارتوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے اور انہیں خالی کروانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے چیف کنٹرولر بریگیڈیئر ایس اے ناصر نے کشمیر اور شمالی علاقاجات میں شدید زلزلے کی تباہ کاریوں کے بعد سندھ حکومت کو ایک یاداشت نامہ بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شہر میں خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کو خالی کروایا جائے۔

خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کرنے والی کمیٹی نے دو سو دس عمارتوں کو خطرناک قرار دیا ہے جس میں سے باون عمارتوں کو تاریخی ورثہ قرار دیا جا چکا ہے۔

ایس اے ناصر کا کہنا ہے کہ کسی حادثے سے بچنے کے لیے ان عمارتوں کو فوری خالی کروایا جائے۔ان کے مطابق انسانی جانیں تاریخی ورثے سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔

بلڈنگ اتھارٹی کے مطابق رن کچھ اور کراچی میں آنے والے زلزلے کے بعد بلڈنگ کنٹرول کے قوانین میں ترمیم کی گئی تھی جس کے بعد بڑی عمارتوں کی تعمیر کے لیے ان میں زلزلہ برداشت کرنے کی صلاحیت ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سندھ اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں بھی اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ عمارتوں کی تعمیر کے قوانین میں ترمیم کی جائے۔ سندھ کے وزیرِاعلیٰ ارباب غلام رحیم کا بھی کہنا ہے کہ اگر کبھی کسی ناگہانی آفت کی صورت میں کراچی میں کوئی عمارت گر بھی گئی تو حکومت کچھ نہیں کر سکے گی اور لوگوں کو نکالنے میں ہی کئی دن لگے جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد