مبشر زیدی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
پاکستان میں زلزلے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد اکیاون ہزار تین سو سے زائد ہوگئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی بڑھ کر چوہتر ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ زلزلے سے زخمی اور بےگھر ہونے والے افراد کے لئے وقت کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں کیونکہ ان علاقوں میں برف باری شروع ہوا ہی چاہتی ہے۔ وفاقی ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق احمد خان نے اسلام آباد میں زلزلے سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی ترجیح اس وقت بھی زخمیوں کو طبی امداد دینا ہے۔ تاہم ریلیف کمشنر کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت خیموں کی ہے اور ابھی بھی پانچ لاکھ خیمے چاہئے ہوں گے جو نہ صرف زلزلے سے متاثرہ افراد کوپناہ فراہم کریں بلکہ ان کو سردی سے بچائیں۔ان کے مطابق پاکستان نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ اب ایسے خیمے پاکستان بھیجے جائیں جو نہ صرف سردی اور برف باری کا مقابلہ کر سکیں بلکہ ان خیموں میں چار سے چھ افراد کو رکھا بھی جا سکے۔ میجر جنرل فاروق نے کہا کہ اس وقت زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں دوست ممالک اور عطیات دینے والی ایجنسیوں کے اکیس جبکہ پاکستان کے پانچ فیلڈ ہسپتال قائم کیے گئے ہیں جہاں زلزلے سے متاثرہ افراد کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تشنج (ٹیٹنس) سے بچاؤ کی ویکسین کل پاکستان پہنچ گئی ہے اور اب اس بیماری سے بچاؤ کے ٹیکے ہر متاثرہ جگہ دستیاب ہیں۔ ریلیف کمشنر نے کہا کہ نیلم، جہلم اور کاغان وادیوں کی سڑکوں کو کچھ حد تک کھول دیا گیا ہے۔ بھارت کے ساتھ لائن آف کنٹرول کھولنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر جلد سے جلد دونوں جانب کے کشمیری اس مصیبت میں ایک دوسرے سے نہیں مل سکتے تو پھر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق ابھی تک بھارت کی طرف سے کسی بھی کشمیری خاندان کو لائن آف کنٹرول پار کرنے کی اجازت نہیں ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت نکل رہا ہے اور اگر بھارت پاکستان کی تحریری تجویز کا انتظار کرتا رہا تو دونوں جانب کے کشمیری ایک دوسرے کی مصیبت کے وقت میں مل نہ پائیں گے۔ |