BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 October, 2005, 02:27 GMT 07:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اپنا علاقہ استعمال نہ ہونے دینگے‘
خورشید قصوری اور نٹور سنگھ: فائل فوٹو
’زلزلے جیسی آفت کے بعد کشمیر پوری دنیا کی نظر میں آ گیا ہے‘
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور صوبہ سرحد میں خوفناک زلزلے سے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصانات کے پس منظر میں پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے دو روز قبل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ زلزلے کے بعد اہل کشمیر کوتعمیر نو اور اپنے عزیزوں سے ملاقات کے لیے کنٹرول لائن عبور کرنے کی سہولت میسر ہونی چاہیے۔

ادھر بھارتی وزارت خارجہ نے صدر پرو یز مشرف کے اس بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت بھی چاہتا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف رہنے والے لوگ آسانی سے ایک دوسرے سے مل سکیں اور ایک دوسرے کی مدد کر سکیں۔

بی بی سی اردو سروس کی ماہ پارہ صفدر نے رات گئے پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری سے پوچھا کہ کیا بھارت کی جانب سے حکومت پاکستان کی پیشکش پر کوئی باضابطہ جواب ملا ہے تو ان کا جواب تھا کہ ’ہندوستان کی طرف سے سرکاری ردِ عمل وزارتِ خارجہ کی طرف سے ہی آیا ہے اور انہوں نے صدر مشرف کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔

انہوں نے کہا صدرِ پاکستان نے یہ کہہ کر پاکستان کی سیاسی عزم کا اظہار کیا تھا۔ ’انہوں نے ایک سمت کی طرف اشارہ کیا تھا۔ ہم نے محسوس کیا تھا کہ ایسے وقت میں جب کمشیریوں کے جسموں اور ذہنوں پر تباہ کن زلزلے کی وجہ سے کاری ضربیں لگ چکی ہیں اور یہ مناسب ہو گا کہ ان کے لیے آسانی پیدا کی جائے‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ تجویز اس لیے نہیں دی گئی تھی کہ ہندوستانی فوج پاکستانی علاقے کو استعمال کرے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس الہ دین کا چراغ نہیں ہے کہ وہ اسے رگڑے اور دو ملین ٹینٹ آ جائیں۔ ’پاکستان ہر سطح پر اپنی پوری کوشش کر رہا ہے کہ اس قدرتی آفت سے نمٹا جا سکے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے بھی پوری دنیا کو تنبیہہ کی ہے وہ زلزلہ زدگان کی مدد کرنے میں اپنا کردار نبھائے‘۔

انہوں نے کہا صرف اڑتالیس گھنٹے میں دو ڈویژن فوج حرکت میں آ گئی تھی اور آفت زدگان کی مدد کے لیے پہنچ گئی تھی۔

اسی بارے میں
حریت خوش، جماعت معترض
19 October, 2005 | پاکستان
یاسین ملک پاکستان پہنچ گئے
18 October, 2005 | پاکستان
’خفیہ سفارتکاری ہو رہی ہے‘
19 February, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد