’خفیہ سفارتکاری ہو رہی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے خفیہ سفارتکاری ہو رہی ہے۔ یہ بات انہوں نے لاہور کے سٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیر ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر دونوں ملک اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں اور ان ملکوں کی رائے عامہ بھی اپنے موقف کو درست اور دوسرے کو غلط سمجھتی ہے۔ اس لیے ایک خفیہ چینل قائم کیا گیا ہے جس میں صدر، وزیر اعظم اور وزیر خارجہ آپس میں بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مظفر آباد، سری نگر بس سروس کا معاملہ بھی ایک دو روز میں حل نہیں ہوگیا اس کے لیے آٹھ دس ماہ سے خفیہ بات چل رہی تھی، نوٹس آرہے تھے اور ان میں ترامیم ہو رہی تھیں اور آخری تبدیلی اس رات آئی جب وہ نٹور سنگھ سے بھارتی ہائی کمشن کی جانب سے دیے گئے عشائیے سے پہلے علیحدگی میں ملاقات کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مظفر آباد سری نگر بس سروس کا فیصلہ ، لائن آف کنڑول پر جنگ بندی کے بعد اعتماد کی بحالی کی طرف سب سے بڑا قدم ہے جسے دونوں ممالک کی سیاسی جماعتوں نے بھی سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں امید ہے کہ کشمیر کے معلاملات بہتر ہونگے وہاں انسانی حقوق کے حالات بہترہونگے اور بات چیت کے ایک عمل کا آغاز ہوجائےگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی پاکستان کے موقف کے مطابق کشمیریوں کو بھی اس عمل میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ چھ ماہ کےدوران جن معاملات پر باہمی اجلاس ہونے ہیں ان کا فیصلہ ہوچکا ہے اور بھارتی وزیر خارجہ نے انہیں بھارت دورے کی دعوت بھی دی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||