| | سرد موسم میں متاثرہ علاقوں کے لوگ مشکلات کا شکار ہوسکتے ہیں |
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو کے لیے دی جانے والی عالمی امداد ’بالکل ناکافی‘ ہے۔ صدر مشرف نے ایک انٹرویو میں بی بی سی کو بتایا کہ اب تک چھ سو بیس ملین ڈالر کی امدد کا وعدہ کیا گیا ہے جبکہ پاکستان کو متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو کے لیے کم از کم پانچ ارب ڈالرکی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زلزلہ زدگان کی آباد کاری کے لیے پانچ لاکھ نئے گھروں کی ضرورت پڑے گی۔ صدر مشرف کا کہنا تھا کہ وہ جلد ہی ایک عالمی کانفرنس بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں عالمی ممالک اور امدادی تنظیموں کو مدعو کیا جائے گا تاکہ مزید امدادی فنڈ جمع کیے جا سکیں‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے سے متاثر ہونے والے تمام علاقوں میں امدادی ٹیمیں سرد موسم کے آغاز سے قبل پہنچ جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ’ اگر سرد موسم سے قبل زلزلہ زدگان تک خیمے اور کمبل نہیں پہنچے تو متاثرہ علاقوں کے لوگ مشکلات کا شکار ہوسکتے ہیں۔ تاہم ہمارے پاس ابھی دو ہفتےکا وقت ہے۔ سردیاں آ رہی ہیں لیکن ابھی موسم کے ناقابلِ برداشت ہونے میں وقت ہے اور تب تک زیادہ تر علاقوں میں امداد پہنچ جائے گی‘۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مرنے والوں کی تعداد پچاس ہزار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے تاہم زلزلے کے بعد تمام نظام تباہ ہونے کے سبب اصل تعداد کے بارے میں اندازہ لگانا مشکل ہے۔
|