BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 October, 2005, 07:26 GMT 12:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ: حاملہ خواتین کا کرب


ایبٹ آباد کے ہسپتال ایوب میڈیکل کمپلیکس میں ڈاکٹروں کے مطابق تقریبا ساٹھ حاملہ خواتین زیرعلاج ہیں۔ زلزلے سے متاثرہ لوگوں کے لئے ہنگامی بنیادوں پر مختلف علاقوں میں بنے ہوئے ہسپتالوں میں حاملہ خواتین کے علاج و معالجہ کے لئے ضرورت کا بنیادی سامان اور ان کے لئے خصوصی وارڈ کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔

مانسہرہ کے ہسپتال میں لاہور سے آئی ہوئی ڈاکٹر صوبیہ ان مشکلات کے بارے میں کہتی ہیں: ’یہاں لیبر روم نہیں ہے، ایک بیڈ کے سوا یہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ لیبر روم میں جن مشینوں کی ضرورت پڑتی ہے ان سب کی یہاں ضرورت ہے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں: ’یہاں کچھ بھی دستیاب نہیں ہے۔ ہم بیڈ پر، کرسی پر ڈلیوری کررہے ہیں، ایک ہی بیڈ پر ایک کو اٹھاتے ہیں، دوسرے کو ڈال دیتے ہیں۔ اتنے چھوٹے سے کمرے پر زچہ بچہ لکھکر لگادینے سے یہ لیبر روم نہیں بن گیا۔‘

رضاکار تنظیموں کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں اب بھی بہت سی ایسی خواتین ہیں جو خصوصی ضروریات کی چیزوں اور زچگی کے لئے مناسب بندوبست سے محروم ہیں۔

ضلع جھنگ سے آئی ہوئی ڈاکٹر بشری ناہید کا کہنا ہے: ’کل ہم نے بہت کوشش کی کہ ایک بچے کی ڈلیوری کروادیں، لیکن ہم اس کی ڈلیوری نہیں کراسکے مگر وہ ہم نے ایبٹ آباد ریفر کردیا ہے۔

خواتین ڈاکٹروں کی کمی
ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو ہمارے مرد تنگ ہوتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم پردہ کرکے جائیں۔ پردہ کرکے جائیں تو وہ چیک اپ کس طرح کرے؟ وہ ٹیکہ کس طرح لگائیں؟ تو پھر وہ جب ہمیں ڈاکٹر کے پاس نہیں لےجاتے تو تکلیف تو لیڈیز کو ہوتی ہی ہوتی ہے۔

ضلع مانسہرہ کے دور دراز علاقے سنگھڑ کی رہنے والی زینب بی بی جن کی دونوں کولہوں کی ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں اور زچگی کے دوران بچہ مرچکا ہے، بتاتی ہیں: ’نہ کوئی ہسپتال ہے، نہ کوئی راستہ ہے، چارپائیاں بچھاکر گزارہ کررہے ہیں۔‘

ہسپتالوں میں موجود کچھ خواتین کہتی ہیں کہ ان کے مرد انہیں مرد ڈاکٹروں سے علاج کرانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ ان خواتین میں مسرت بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے: ’جب ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو ہمارے مرد تنگ ہوتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم پردہ کرکے جائیں۔ پردہ کرکے جائیں تو وہ چیک اپ کس طرح کرے؟ وہ ٹیکہ کس طرح لگائیں؟ تو پھر وہ جب ہمیں ڈاکٹر کے پاس نہیں لےجاتے تو تکلیف تو لیڈیز کو ہوتی ہی ہوتی ہے۔‘

’میں یہاں کھڑی ہوں، لیکن میرے بھائی نہیں چاہتے کہ میں یہاں ایسے کھڑی رہوں۔ لیکن مجبوری کی وجہ سے کھڑی ہوں۔‘

ان خواتین کے ساتھ آئے ہوئے مرد اس بات پر استدلال کرتے ہیں کہ مرد ڈاکٹروں سے ان کی خواتین کا علاج بےپردگی کے زمرے میں آتا ہے۔ لہذا حکومت خواتین ڈاکٹر کا انتظام کرے۔

ایک مرد کا کہنا ہے: ’پردہ تو بالکل ختم ہوگیا ہے۔ ساری بےحیائی پھیلی ہوئی ہے۔ کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیا کریں۔ یہاں پر لیڈی ڈاکٹر ہونی چاہئے تھی۔ لڑکیوں کا علیحدہ انتظام ہونا چاہئے تھا، لڑکوں کا الگ۔‘

رضاکار تنظیموں کے بقول زلزلہ زدہ علاقوں میں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی سامان پہنچ رہا ہے مگر خواتین کے لئے ضروری اشیاء کا فقدان ہے جس کی طرف کسی نے تاحال توجہ نہیں دی ہے۔

66گھر سے بےگھر ہونا
ہم انشاللہ اپنے گھر واپس جائیں گے۔ متاثرین
66بردہ فروشی کا خطرہ
زلزلے کے بعد بچوں کو بردہ فروشوں سے خطرہ
66بچوں کی نئی پہچان
گلے میں گھر کا پتہ ، ہاتھوں پر ٹیلیفون نمبر
66بچےحکومتی ذمہ داری
لاوارث بچے حکومت کی ذمہ داری ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد