زلزلہ: حاملہ خواتین کا کرب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایبٹ آباد کے ہسپتال ایوب میڈیکل کمپلیکس میں ڈاکٹروں کے مطابق تقریبا ساٹھ حاملہ خواتین زیرعلاج ہیں۔ زلزلے سے متاثرہ لوگوں کے لئے ہنگامی بنیادوں پر مختلف علاقوں میں بنے ہوئے ہسپتالوں میں حاملہ خواتین کے علاج و معالجہ کے لئے ضرورت کا بنیادی سامان اور ان کے لئے خصوصی وارڈ کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ مانسہرہ کے ہسپتال میں لاہور سے آئی ہوئی ڈاکٹر صوبیہ ان مشکلات کے بارے میں کہتی ہیں: ’یہاں لیبر روم نہیں ہے، ایک بیڈ کے سوا یہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ لیبر روم میں جن مشینوں کی ضرورت پڑتی ہے ان سب کی یہاں ضرورت ہے۔‘ وہ مزید کہتی ہیں: ’یہاں کچھ بھی دستیاب نہیں ہے۔ ہم بیڈ پر، کرسی پر ڈلیوری کررہے ہیں، ایک ہی بیڈ پر ایک کو اٹھاتے ہیں، دوسرے کو ڈال دیتے ہیں۔ اتنے چھوٹے سے کمرے پر زچہ بچہ لکھکر لگادینے سے یہ لیبر روم نہیں بن گیا۔‘ رضاکار تنظیموں کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں اب بھی بہت سی ایسی خواتین ہیں جو خصوصی ضروریات کی چیزوں اور زچگی کے لئے مناسب بندوبست سے محروم ہیں۔ ضلع جھنگ سے آئی ہوئی ڈاکٹر بشری ناہید کا کہنا ہے: ’کل ہم نے بہت کوشش کی کہ ایک بچے کی ڈلیوری کروادیں، لیکن ہم اس کی ڈلیوری نہیں کراسکے مگر وہ ہم نے ایبٹ آباد ریفر کردیا ہے۔
ضلع مانسہرہ کے دور دراز علاقے سنگھڑ کی رہنے والی زینب بی بی جن کی دونوں کولہوں کی ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں اور زچگی کے دوران بچہ مرچکا ہے، بتاتی ہیں: ’نہ کوئی ہسپتال ہے، نہ کوئی راستہ ہے، چارپائیاں بچھاکر گزارہ کررہے ہیں۔‘ ہسپتالوں میں موجود کچھ خواتین کہتی ہیں کہ ان کے مرد انہیں مرد ڈاکٹروں سے علاج کرانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ ان خواتین میں مسرت بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’جب ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو ہمارے مرد تنگ ہوتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم پردہ کرکے جائیں۔ پردہ کرکے جائیں تو وہ چیک اپ کس طرح کرے؟ وہ ٹیکہ کس طرح لگائیں؟ تو پھر وہ جب ہمیں ڈاکٹر کے پاس نہیں لےجاتے تو تکلیف تو لیڈیز کو ہوتی ہی ہوتی ہے۔‘ ’میں یہاں کھڑی ہوں، لیکن میرے بھائی نہیں چاہتے کہ میں یہاں ایسے کھڑی رہوں۔ لیکن مجبوری کی وجہ سے کھڑی ہوں۔‘ ان خواتین کے ساتھ آئے ہوئے مرد اس بات پر استدلال کرتے ہیں کہ مرد ڈاکٹروں سے ان کی خواتین کا علاج بےپردگی کے زمرے میں آتا ہے۔ لہذا حکومت خواتین ڈاکٹر کا انتظام کرے۔ ایک مرد کا کہنا ہے: ’پردہ تو بالکل ختم ہوگیا ہے۔ ساری بےحیائی پھیلی ہوئی ہے۔ کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیا کریں۔ یہاں پر لیڈی ڈاکٹر ہونی چاہئے تھی۔ لڑکیوں کا علیحدہ انتظام ہونا چاہئے تھا، لڑکوں کا الگ۔‘ رضاکار تنظیموں کے بقول زلزلہ زدہ علاقوں میں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی سامان پہنچ رہا ہے مگر خواتین کے لئے ضروری اشیاء کا فقدان ہے جس کی طرف کسی نے تاحال توجہ نہیں دی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||