ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی |  |
 | | | پاکستانی وزیر تجارت ہمایوں اختر نے تاجروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایک ایک شہر کی ذمہ داری لے لیں۔ |
پاکستان کے وزیر تجارت ہمایوں اختر نے کہا ہے کہ پل ٹوٹنے کے باعث پہاڑی علاقوں اور دیگر متاثرہ علاقوں میں جانے کے لیے راستے نہیں ہیں جبکہ ہیلی کاپٹر کو بھی اتارنا انتہائی مشکل کام ہے اور امریکہ و برطانیہ کی فوج بھی آتی تو متاثرہ علاقوں تک نہیں پہنچ پاتی۔ انہوں نے کہا کہ زلزلے سے متاثر علاقوں کی تعمیر نو کے لیے حکومت کو انتہائی مشکلات کا سامنا ہے۔ زلزلے سے خاندان کے خاندان تباہ ہوگئے ہیں جبکہ سماجی مشکلات درپیش ہیں۔ جمعرات کو کراچی ایوان صنعت و تجارت کی جانب سے زلزلہ زدگان کے لیے جمع کی گئی امداد کو حوالے کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ جو بنیادی ڈھانچہ برسوں سے بنا تھا وہ ختم ہوگیا ہے۔ اس پر اربوں روپے خرچ ہونگے۔ انہوں نے تاجروں کو بتایا کہ ہم متاثرین کو صدر مشرف اور وزیر اعظم کا پیغام پہنچارہے ہیں کہ امداد کا سلسلہ طویل عرصے تک جاری رکھا جائےگا۔ پہلا مرحلہ زخمیوں کو ہسپتال پہنچانا اور لوگوں کی جانیں بچانا ہے۔ جبکہ دوسرے مرحلے میں متاثرہ علاقوں کے راستہ کھولے اور پل بنائے جائیں گے۔ ہمایوں اختر نے تاجروں کو مشورہ دیا کہ تاجر برادری ایک ایک شہر کی ڈولیپمینٹ کی ذمہ داری لے تو مستقبل میں وہ شہر انہی کے حوالے سے یاد رکھا جائیگا۔ وفاقی وزیر نے تسلیم کیا کہ زلزلے سے حکومت اور معیشت پر شدید دباؤ پڑا ہے مگر ہم اس کا مقابلہ کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ پل ٹوٹنے کے باعث پہاڑی علاقوں اور دیگر متاثرہ علاقوں میں جانے کے لیے راستے نہیں ہیں جبکہ ہیلی کاپٹر کو بھی اتارنا انتہائی مشکل کام ہے اور امریکہ و برطانیہ کی فوج بھی آتی تو متاثرہ علاقوں تک نہیں پہنچ پاتی۔ ۔ |